الہام ولایت یا الہام عامہ مومنین بجُز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں تو پھر ناظرین کے لئے غور کا مقام ہے کہ کیوں کر اور کن علامات بیّنہؔ سے میاں عبد الحق صاحب اور میاں محی الدین صاحب نے اپنے الہامات کو رحمانی الہامات سمجھ لیا ہے۔ اُن کے الہامات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص عیسیٰ بن مریم کی وفات کا قائل ہو اور دنیا میں انہیں کا دوبارہ آنا تسلیم نہ کرے وہ کافر ہے۔ لیکن ناظرین اب اس رسالہ کو پڑھکر بطور حق الیقین سمجھ جائیں گے کہ درحقیقت واقعی امر جوقرآن شریف سے ظاہر ہو رہا ہے یہی ہے کہ سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم فوت ہی ہو گئے اور فوت شدہ جماعت میں صدہا سال سے داخل ہیں۔ سو بڑی اور بھاری نشانی میاں محی الدین اور میاں عبد الحق کے شیطانی الہام کی یہ نکل آئی کہ اُن کے اس خیال کا قرآن شریف مکذّب ہے اور شمشیر برہنہ لے کرمقابلہ کر رہا ہے۔اب اس سے یقینی طور پر ثابت ہوگیا کہ ابلیس مکّار نے کسی اندرونی مناسبت کی وجہ سے اِن دونوں صاحبوں کو استخارہ کے وقت جا پکڑا اور قرآن کریم کے منشاء کے بر خلاف اُن کو تعلیم دی۔ بھلا اگر اِن صاحبوں کے یہ الہامات سچے ہیں تو اب قرآن کریم کی رُو سے مسیح ابن مریم کا زندہ ہوناثابت کر کے دکھلاویں اور ہم دس یا بیس آیتوں کا مطاؔ لبہ نہیں کرتے صرف ایک آیت ہی زندہ ہونے کے بارے میں پیش کر یں۔ اور جس فرشتہ نے اس عاجز کے جہنمی یا کافر ہونے کے بارے میں جھٹ پٹ ان کے کانوں تک دو تین فقرے پہنچا دئے تھے اب اُسی سے درخواست کریں کہ ہماری مدد کر۔ اور کچھ شک نہیں کہ اگر وہ الہام خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے تو کم سے کم تیس ۳۰ آیت حضرت عیسیٰ کے زندہ ہونے کے بارے میں فی الفور القاء ہوجائیں گی کیونکہ ہم نے بھی تو تیس ۳۰ آیت اُن کے مرنے کے ثبوت میں پیش کی ہیں۔لیکن یا درکھنا چاہیئے کہ یہ لوگ ایک بھی آیت پیش نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اُن کے الہامات شیطانی ہیں اور حزب شیطان ہمیشہ مغلوب ہے۔ وہ بے چارہ لعنتوں کا مارا خود کمزور اور ضعیف ہے