کہ یہ شخص ایسا مُلحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔اور ظاہر ہے کہ جس کافر کا مآل کار کفر ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خداانہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتوےٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔ اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے استکشاف کے لئے بطور استخارہ و استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی بُرایا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف نکاؔ لاجاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے 33الخ ۱ ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آجاتا ہے۔ دیکھو خط دوم قرنتھیاں باب۱۱ آیت ۱۴۔ اور مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب بائیس آیت انیس میں لکھاہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارہ میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی بلکہ وہ اُسی میدان میں مر گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپا ک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکاکھا کر ربّانی سمجھ لیا تھا۔ اب خیال کرنا چاہیئے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رُو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے اور پہلی کتابیں توریت اور انجیل اس دخل کی مصدّق ہیں اور اسی بناء پر