وہ ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی تمہیں یا دنہیں آتا۔ کیا بد قسمتی ہے کہ ایک بڑے امرِاہم سے تم قطعاًً غافل اور آنکھیں بند کئے بیٹھے ہو اور جو گزشتنی گزاشتنی امور ہیں اُن کی ہوس میں دن رات سرپٹ دوڑ رہے ہو تمہیں خوب خبر ہے کہ بلاشبہ وہ وقت تم پر آنے والا ہے کہ جو ایک دم میں تمہاری زندگی اور تمہاری ساری آرزووں کا خاتمہ کر دے گا مگر یہ عجیب شقاوت ہے کہ باوجود علم کے پھر اپنے تمام اوقات دنیا طلبی میں ہی برباد کر رہے ہو۔ اور دنیا طلبی بھی صرف وسائل جائزہ تک محدود نہیں بلکہ تمام ناجائز وسیلے جھوٹ اور دغا سے لے کر ناحق کے خون تک تم نے حلال کر رکھے ہیں۔اور اِن تمام شرمناک جرائم کے ساتھ جو تم میں پھیلے ہوئے ہیں کہتے ہو کہ آسمانی نوراور آسمانی سلسلہ کی ہمیں ضرورت نہیں بلکہ اس سے سخت عداوت رکھتے ہو اور تم نے خدا تعالیٰ کے آسمانی سلسلہ کو بہت ہلکا سمجھ رکھا ہے یہاں تک کہ اُس کے ذکر کرنے میں بھی تمہاری زبانیں کراہت سے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ اور بڑی رعونت اور ناک چڑھانے کی حالت میں ہجو کا حق ادا کرتی ہیں اور تم بار بار کہتے ہو کہ ہمیں کیوں کر یقین آوے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے۔میں ابھی اس کا جواب دے چکا ہوں کہ اس درخت کو اس کے پھلوں سے اور اس نیر کو اُس کی روشنی سے شناخت کروگے۔ میں نے ایک دفعہ یہ پیغام تمہیں پہنچادیا ہے۔ اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اس کو قبول کرو یا نہ کرو اور میری باتوں کو یاد رکھو یا لوحِ حافظہ سے بُھلا دو۔
جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارو
یاد آئیں گے تمہیں میرے سخن میرے بعد
خاتمہ مشتمل بر مرثیہ تفرقہ حالت اسلام
مے سزد گر خوں ببار د دیدہ
ہر اہل دیں
بر پریشاں حالیِ اسلام و قحطُ المسلمین
دین ِ حق را گردش آمد صعبناک وسہمگیں
سخت شورے او افتاد اندر جہاں از کفرو کیں