جو ضروری مطلب پر جا ٹھہرتی ہے تو تم ہر گز آرام نہ کرو جب تک وہ اصل مطلب تمہیں حاصل نہ ہو جائے۔ اے لوگو تم اپنے سچے خداوند خدا اپنے حقیقی خالق اپنے واقعی معبود کی شناخت اور محبت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔ پس جب تک یہ امر جو تمہاری خِلقت کی علّت غائی ہے بیّن طور پر تم میں ظاہر نہ ہو تب تک تم اپنی حقیقی نجات سے بہت دُور ہو۔ اگر تم انصاف سے بات کرو تو تم اپنی اندرونی حالت پر آپ ہی گواہ ہو سکتے ہو کہ بجائے خدا پرستی کے ہر دم دنیا پرستی کا ایک قوی ہیکل بُت تمہارے دل کے سامنے ہے جس کو تم ایک ایک سکنڈ میں ہزارہزار سجدہ کر رہے ہو اور تمہارے تمام اوقات عزیز دنیاکی جق جق بک بک میں ایسے مستغرق ہو رہے ہیں کہ تمہیں دوسری طرف نظر اُٹھانے کی فرصت نہیں۔ کبھی تمہیں یاد بھی ہے کہ انجام اس ہستی کا کیا ہے۔ کہاں ہے تم میں انصاف !کہاں ہے تم میں امانت !کہاں ہے تم میں وہ راستبازی اور خدا ترسی اور دیانتداری اور فروتنی جس کی طرف تمہیں قرآن بلاتا ہے تمہیں کبھی بھولے بسرے برسوں میں بھی تو یاد نہیں آتا کہ ہمار اکوئی خدا بھی ہے۔ کبھی تمہارے دل میں نہیں گذرتا کہ اُس کے کیا کیا حقوق تم پر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے کوئی غرض کوئی واسطہ کوئی تعلق اُس قیّوم حقیقی سے رکھا ہوا ہی نہیں اور اُس کا نام تک لینا تم پر مشکل ہے۔ اب چالاکی سے تم لڑ وگے کہ ایسا ہر گز نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تمہیں شرمندہ کرتا ہے جبکہ وہ تمہیں جتلاتا ہے کہ ایمانداروں کی نشانیاں تم میں نہیں۔اگرچہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانشمندی اور متانتِ رائے کے مدعی ہو۔ مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دُور اندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اُس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیداکی گئی ہیں۔ تم دنیا کی زندگی پر ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے کوئی شخص ایک چیز ہمیشہ رہنے والی پر مطمئن ہو تا ہے۔ مگر وہ دوسرا عالم جس کی خوشیاں سچے اطمینان کے لائق اور دائمی ہیں