آسمان پر لے جاوے۔ اب اگر جسم خاکی کے ساتھ ابن مریم کا آسمان پرجانا صحیح مان لیاجائے تو یہ جواب مذکورہ بالا سخت اعتراض کے لائق ٹھہرجائے گا اور کلام الٰہی میں تناقض او ر اختلاف لازم آئے گا لہٰذا قطعی اور یقینی یہی امر ہے کہ حضرت مسیح بجسدہ العنصری آسمان پر نہیں گئے۔ بلکہ موت کے بعد آسمان پر گئے ہیں۔ بھلا ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا موت کے بعد حضرت یحییٰ اور حضرت آدم اور حضرت ادریس اور حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف وغیرہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے یا نہیں۔ اگر نہیں اٹھائے گئے تو پھر کیوں کر معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن سب کو آسمانوں میں دیکھا اور اگر اٹھائے گئے تھے تو پھر ناحق مسیح ابن مریم کی رفع کے کیوں اَور طور پرمعنے کئے جاتے ہیں ۔ تعجب کہ توفّی کا لفظ جو صریح وفات پر دلالت کرتا ہے جابجا اُنکے حق میں موجود ہے اور اٹھائے جانے کا نمونہ بھی بدیہی طور پر کھلا ہے کیونکہ وہ انہیں فوت شدہ لوگوں میں جاملے جو اُن سے پہلےؔ اٹھائے گئے تھے۔ اور اگر کہو کہ وہ لوگ اٹھائے نہیں گئے تو میں کہتا ہوں کہ وہ پھر آسمان میں کیوں کر پہنچ گئے آخر اٹھائے گئے تبھی توآسمان میں پہنچے۔ کیا تم قرآ ن شریف میں یہ آیت نہیں پڑھتے وَ3 ۱؂ ۔ کیا یہ وہی رفع نہیں ہے جو مسیح کے بارہ میں آیا ہے ؟ کیا اس کے اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ۔ حضرات غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب کے الہامات کے بارے میں کچھ مختصر تحریر میاں عبد الحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین صاحب لکھو والے اس عاجز کے حق میں لکھتے ہیں کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنّمی ہے۔ چنانچہ عبد الحق صاحب کے الہام میں تو صریح سیصلٰیؔ نارًا ذات لھبٍ موجود ہے او ر محی الدین صاحب کو یہ الہام ہو ا ہے