نہیں آتے۔ بلکہ بیان کیاجاتاہے کہ دنیا میں آکر پھر چالیس ۴۰ یا پینتالیس ۴۵ برس زندہ رہیں گے پھر دوسری حدیث مسلم کی ہے جو جابر سے روایت کی گئی ہے او ر وہ یہ ہے۔ وعن جابر قال سمعت النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول قبل ان یموت بشھرٍ تسئلونی عن الساعۃ وانّما علمھا عند اللّٰہ واقسم باللّٰہ ماعلی الارض من نفسٍ منفوسۃ یأتی علیہا ماءۃ سنۃ وھی حیۃ۔ رواہ مسلم۔ اور روایت ہے جابر سے کہا کہ سُنا میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ کوئی ایسی زمین پر مخلوق نہیں جو اس پر سو برس گذرے اور وہ زندہ رہے۔ اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ جو شخص زمین کی مخلوقات میں سے ہو وہ شخص سو برس کے بعد زندہ نہیں رہے گا۔او ر ارض کی قید سے مطلب یہ ہے کہ تا آسمان کی مخلوقات اس سے باہر نکالی جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابنؔ مریم آسمان کی مخلوقات میں سے نہیں بلکہ وہ زمین کی مخلوقات اور ما علی الارض میں داخل ہیں۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی جسم خاکی زمین پر رہے تو فوت ہوجائے گا اور اگر آسمان پر چلاجائے تو فوت نہیں ہوگا۔ کیونکہ جسم خاکی کا آسمان پرجانا تو خود بموجب نص قرآن کریم کے ممتنع ہے۔ بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پید ا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔ (۳۰) تیسویں آیت یہ ہے ۔ یعنی کفار کہتے ہیں کہ تُو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا تب ہم ایما ن لے آویں گے۔ اِن کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پا ک تر ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھاوے اور میں بجز اس کے اور کوئی نہیں ہوں کہ ایک آدمی۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کا نشان مانگا تھااور انہیں صاف جواب ملا کہ یہ عادت اللہ نہیں ؔ کہ کسی جسم خاکی کو