حضرت عزیز اور حضرت مسیح ہیں اور اُن کا بہشت میں داخل ہوجانا اس سے ثابت ہوتا ہے جس سے اُن کی موت بھی بپایہ ثبوت پہنچتی ہے۔ (۲۸) اٹھائیسویں آیت الجزو نمبر ۵ ۔ یعنی جس جگہ تم ہو اُسی جگہ موت تمہیں پکڑے گی اگرچہ تم بڑے مرتفع بُرجوں میں بودوباش اختیار کرو۔ اس آیت سے بھی صریح ثابت ہوتا ہے کہ موت اور لوازم موت ہر یک جگہ جسم خاکی پر واردہوجاتے ہیں۔یہی سُنّت اللہ ہے اور اس جگہ بھی استثناء کے طورپرکوئی ایسی عبارت بلکہ ایک ایساکلمہ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس سے مسیح باہر رہ جاتا۔ پس بلا شبہ یہ اشارۃ النص بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کر رہے ہیں۔ موت کے تعاقب سے مراد زمانہ کا اثر ہے جو ضعف اور پیری یا امراض وآفات منجرہ الی الموت تک پہنچاتا ہے۔ اس سےؔ کوئی نفس مخلوق خالی نہیں۔ (۲۹) انتیسویں آیت یعنی رسول جو کچھ تمہیں علم و معرفت عطا کرے وہ لے لو اور جس سے منع کرے وہ چھوڑ دو۔ لہذا اب ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا فرمایا ہے۔ سو پہلے وہ حدیث سنو جو مشکٰوۃ میں ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ یہ ہے۔ وعنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اعمارامتی ما بین الستین الی السبعین واقلہم من یجوز ذالک رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ یعنی اکثر عمریں میری اُمّت کی ساٹھ سے ستّر برس تک ہوں گی۔ اور ایسے لوگ کمتر ہوں گے جو ان سے تجاوز کریں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس اُمّت کے شمار میں ہی آگئے ہیں۔ پھر اتنا فرق کیونکرممکن ہے کہ اَور لوگ ستّر برس تک مشکل سے پہنچیں اور اُن کا یہ حال ہو کہ دو ہزار کے قریب انؔ کی زندگی کے برس گذر گئے اوراب تک مرنے میں