اے حضرات مولوی صاحبان کہاں گئی تمہاری توحید اور کہاں گئے وہ لمبے چوڑے دعوے اطاعتِ قرآن کریم کے۔ ھل منکم رجل فی قلبہ عظمۃ القراٰن مثقال ذرّۃ ؟ (۲۶) چھبیسویں آیت 3333ٍ3 ۱؂ الجزو نمبر ۲۷سورۃالقمر ۔ یعنی متقی لوگ جو خدائے تعالیٰ سے ڈر کر ہر یک قسم کی سر کشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہرمیں ہیں صدق کی نشست گاہ میں بااقتدار بادشاہ کے پاس۔ اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہرہے کہ خدائے تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنیؔ خدائے تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیاہے۔ سو اگر رَافِعُکَ اِلَیَّ کے یہی معنے ہیں جو مسیح خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ وہ جنت میں بھی داخل ہوگیا جیسا کہ دوسری آیت یعنے 3 ۲؂ جو رافعک الیّ کے ہم معنی ہے بصراحت اسی پر دلالت کررہی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہوجانا اور بہشت میں داخل ہوجانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں پورے ہوجاتے ہیں۔ پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کافوت ہونا ہی ثابت ہوا۔ فالحمد للّٰہ الذی احق الحق وابطل الباطل ونصر عبدہ وایّد مامورہ۔ (۲۷)ستائیسویں آیت یہ ہے 33۳؂ یعنی جو لوگ جنّتی ہیں اور اُن کا جنّتی ہونا ہماری طرف سے قرار پاچکا ہے۔ وہؔ دوزخ سے دُور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذّات میں ہیں۔ اس آیت سے مراد