(۲۴) چوبیسویں آیت یہ ہےالجز و نمبر ۲۱سورۃالروم۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا قانون قدرت یہ بتلاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں صرف چار واقعات ہیں۔ پہلے وہ پیدا کیا جاتا ہے پھر تکمیل اور تربیت کے لئے روحانی اور جسمانی طورپررزق مقسوم اُسے ملتا ہے پھر اس پر موت وارد ہوتی ہے۔ پھر وہ زندہ کیاجاتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان آیات میں کوئی ایسا کلمہ استثنائی نہیں۔ جس کی رو سے مسیح کے واقعات خاصہ باہررکھے گئے ہوں حالانکہ قرآن کریم اول سے آخر تک یہؔ التزام رکھتا ہے کہ اگر کسی واقعہ کے ذکر کرنے کے وقت کوئی فرد بشرباہر نکالنے کے لائق ہو تو فی الفور اس قاعدہ کلیہ سے اس کو باہر نکال لیتا ہے یا اس کے واقعات خاصہ بیان کردیتا ہے۔
(۲۵) پچیسویں آیت یہ ہےالجزو نمبر ۲۷سورۃالرحمان۔ یعنی ہریک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے وہ معرض فنا میں ہے یعنی دمبدم فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر یک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں۔ وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جوان کو بڈھا اور بڈھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں۔ خدائے تعالیٰ نے فَانٍ کا لفظ استعمال کیا یَفْنِیْ نہیں کہاتامعلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں یکدفعہ واقعہ ہوگی بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارؔ ے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلا تغیّر وتبدّل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اُس پر اثر نہیں کرتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔