(۲۲) بائیسویں آیت یہ ہے 33 ۱ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جوتم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرواور اُن کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تا اصل حقیقت تم پر منکشف ہوجاوے۔ سو جب ہم نے موافق حکم اس آیت کے اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا اور معلوم کرنا چاہا کہ کیا اگر کسی نبی گذشتہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہو تو وہی آجاتا ہے یا ایسی عبارتوں کے کچھ اَور معنے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اسی امر متنازعہ فیہ کا ہمشکل ایک مقدمہ حضرت مسیح ابن مریم آپؔ ہی فیصل کرچکے ہیں اور اُن کے فیصلہ کاہمارے فیصلہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ دیکھو کتاب سلاطین وکتاب ملاکی نبی اور انجیل جو ایلیا کا دوبارہ آسمان سے اُترنا کس طور سے حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے۔
(۲۳) تیئیسویں آیت 3333۲ یعنی اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ پھر اس کے بعد میرے اُن بندوں میں داخل ہوجا جودنیا کو چھوڑ گئے ہیں اور میرے بہشت کے اندرآ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان جب تک فوت نہ ہوجائے گزشتہ لوگوں کی جماعت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔لیکن معراج کی حدیث جس کو بخاری نے بھی مبسوط طورپر اپنی صحیح میں لکھاہے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں داخل ہے لہٰذا حسب دلاؔ لت صریحہ اس نص کے مسیح ابن مریم کا فوت ہوجانا ضروری طور پر ماننا پڑا۔ اٰمنا بکتاب اللّٰہ القرآن الکریم وکفرنا بکلّ مایخالفہ‘۔ ایّھا الناس اتبعوا ما انزل الیکم من ربّکم ولا تتّبعوا من دونہٖ اولیآء۔ قد جاء تکم موعظۃ من ربّکم وشفاء لما فی الصدور۔ فاتبعوہ ولا تتّبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہٖ۔