کہ کوئی انسان اس قانون قدرت سے باہر نہیں اور ہر یک مخلوق اس محیط قانون میں داخل ہے کہ زمانہ اُس کی عمر پر اثر کر رہا ہے یہاں تک کہ تاثیر زمانہ کی سےؔ وہ پیر فرتوت ہوجاتا ہے اورپھر مرجاتا ہے۔ (۱۶) سولہویں آیت یہ ہے۔3333 ۱ ؂ الخ یعنی اس زندگی دنیا کی مثال یہ ہے کہ جیسے اس پانی کی مثال ہے جس کو ہم آسمان سے اتارتے ہیں پھر زمین کی روئیدگی اس سے مل جاتی ہے پھر وہ روئیدگی بڑھتی اور پھولتی ہے اور آخر کاٹی جاتی ہے۔ یعنی کھیتی کی طرح انسان پیدا ہوتا ہے اوّل کمال کی طرف رُخ کرتا ہے پھر اس کا زوال ہوتا جاتا ہے کیا اس قانون قدرت سے مسیح باہر رکھاگیا ہے۔ (۱۷) سترھویں آیت3 ۲؂ الجزو نمبر ۱۸ سورۃ المومنون یعنی اول رفتہ رفتہ خدائے تعالیٰ تم کو کمال تک پہنچاتا ہے اور پھر تم اپنا کمال پور ا کرنے کے بعد زوال کی طرف میل کرتے ہو یہاں تک کہ مرجاتے ہو یعنی تمہارے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی قانون قدرت ہے کوئی بشر اس سے باہر نہیں۔ اے خداوند قدیر اپنے اس قانوؔ ن قدرت کے سمجھنے کے لئے اِن لوگوں کو بھی آنکھ بخش جو مسیح ابن مریم کو اس سے باہر سمجھتے ہیں۔ (۱۸) اٹھارھویں آیت33 33 ۳؂ الجزونمبر ۲۳ سورۃ الزمر اِن آیات میں بھی مثال کے طورپر یہ ظاہر کیا ہے کہ انسان کھیتی کی طرح رفتہ رفتہ اپنی عمر کو پور ا کر لیتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔