(۱۹) اُنیسویں آیت یہ ہے الجزو نمبر ۱۸سورۃ الفرقان یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ تمام نبی نہ کھا نا کھاتے ہیں اورنہ بازاروں میں پھرتے ہیں اور پہلے ہم بہ نص قرآؔ نی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کاکھانا ہے سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہو چکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔
(۲۰) بیسویں آیت یہ ہےسورۃ النحل الجزو نمبر ۱۴ یعنی جولوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اورپکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے بلکہ آپ پیداشدہ ہیں۔ مرچکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اُٹھائے جائیں گے۔ دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور اُن سب انسانوں کی وفات پر دلالت کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہرا تے تھے اور اُن سے دعائیں مانگتے تھے۔اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیںؔ کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سن کر پھر وہیں ٹھہر نہ جانا کیا ایمانداروں کاکام ہے۔
(۲۱) اکیسویں آیت یہ ہےیعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کاباپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں آ نہیں سکتا۔ کیونکہ