بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں اوربعض عمرؔ طبعی کو پہنچتے ہیں۔ یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف ردّ کئے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہوجاتے ہیں۔یہ آیت بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پاوے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہوجاتا ہے اور پھر مرجاتا ہے۔
(۱۳) تیرھویں یہ آیت ہے 3۱ یعنی تم اپنے جسم خاکی کے ساتھ زمین پر ہی رہو گے یہاں تک کہ اپنے تمتع کے دن پورے کر کے مرجاؤ گے۔ یہ آیت جسم خاکی کو آسمان پر جانے سے روکتی ہے کیونکہ لَکُمْ جو اس جگہ فائدہ تخصیص کا دیتا ہے اس بات پر بصراحت دلالت کررہا ہے کہ جسم خاکی آسما ن پر جانہیں سکتا بلکہ زمین سے ہی نکلا اور زمین میں ہی رہے گا اور زمین میں ہی داخل ہوگا۔
(۱۴) چودھویں یہ آیت ہے 3 ۲ ۔یعنی جسؔ کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اُس کی پیدائش کو اُلٹا دیتے ہیں۔ یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہوجاتی ہیں۔ حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔ عقل اس کی زائل ہوجاتی ہے۔ اب اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گاکہ ایک مدت دراز سے اُن کی انسانیت کے قویٰ میں بکلّی فرق آگیا ہوگا اور یہ حالت خود موت کوچاہتی ہے اور یقینی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مدت سے وہ مر گئے ہوں گے۔
(۱۵) پندرھویں آیت یہ ہے 3333 ۳ ۔ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیداکیا پھر ضعف کے بعد قوت دے دی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اورپیرانہ سالی دی۔ یہ آیت بھی صریح طور پر اس بات پر دلالت کر رہی ہے