کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر یک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح ابن مریم کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہوجانے کی باعث سے فوت ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔
(۹)نویں آیت 333 ۱ یعنی اس وقت سے جتنے پیغمبر پہلے ہوئے ہیں یہ ایک گروہ تھا جو فوت ہوگیا۔ اُن کے اعمال اُن کے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اوراُن کے کاموں سے تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔
(۱۰) دسویں آیت 3 ۲ ۔ اس کی تفصیل ہم اسی رسالہ میں بیان کر چکے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لئے حضرت عیسیٰ کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت یحییٰ ان کی نماز کی حالت میں اُن کے پاس یونہی پڑے رہتے ہیں مردے جو ہوئے۔ اور جب دنیا میں حضرت عیسیٰ آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے اُمّتی بنکر مسلمانوں کی طرح نماز پڑہیں گے۔
(۱۱)ؔ گیارھویں آیت33 ۳ ۔ اس آیت میں واقعات عظیمہ جو حضرت مسیح کے وجود کے متعلق تھے۔ صرف تین بیان کئے گئے ہیں۔حالانکہ اگر رفع اور نزول واقعات صحیحہ میں سے ہیں تو ان کا بیان بھی ضروری تھا۔ کیا نعوذ باللہ رفع اور نزول حضرت مسیح کا مورد اور محل سلام الٰہی نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ سو اس جگہ پر خدائے تعالیٰ کا اس رفع اورنزول کوترک کرنا جو مسیح ابن مریم کی نسبت مسلمانوں کے دلوں میں بساہوا ہے صاف اس بات پردلیل ہے کہ وہ خیال ہیچ اورخلاف واقعہ ہے بلکہ وہ رفع یوم اموت میں داخل ہے اور نزول سراسر باطل ہے۔
(۱۲) بارھویں آیت333 ۴ ۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سُنّت اللہ دوہی طرح سے تم پر جاری ہے۔