اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں۔ اُن کی بھی کامل زندگی ہے۔ مگر وہ دنیا کی ایک ناقصہ کثیفہ زندگی سے نجات پاگئے ہیں۔ دنیا کی زندگی کیا چیز ہے اور کیا حقیقت۔ ایک جاہل اِسی کو بڑی چیز سمجھتا ہے اور ہر یک قسم کی زندگی کو جو قرآن شریف میں مذکور و مندرج ہے اِسی کی طرف گھسیٹتا چلاجاتا ہے۔ وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ دنیوی زندگی تو ایک ادنیٰ درجہ کی زندگی ہے جس کے ارذل حصہ سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے اور جس کے ساتھ نہایت غلیظ اور مکروہ لوازم لگے ہوئے ہیں۔ اگر ایک انسان کو اس سفلیؔ زندگی سے ایک بہتر زندگی حاصل ہوجائے اور سُنّت اللہ میں فرق نہ آوے تو اس سے زیادہ اور کونسی خوبی ہے۔
(۷) ساتویں آیت یہ ہے333 ۱ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک نبی ہیں ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔اب کیا اگر وہ بھی فوت ہوجائیں یامارے جائیں تو ا ن کی نبوت میں کوئی نقص لازم آئے گا جس کی وجہ سے تم دین سے پھرجاؤ۔ اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اگر نبی کے لئے ہمیشہ زندہ رہنا ضروری ہے تو ایسانبی پہلے نبیوں میں سے پیش کرو جو اب تک زندہ موجود ہے اور ظاہر ہے۔کہ اگر مسیح ابن مریم زندہ ہے تو پھر یہ دلیل جو خدائے تعالیٰ نے پیش کی صحیح نہیں ہوگی۔
(۸) آٹھویں آیت یہ ہے 3 3 ۲ ۔ یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ زندہ اور ایک حالت پر رہنے والا نہیں بنایا۔ پسؔ کیا اگر تُو مر گیا تویہ لوگ باقی رہ جائیں گے۔اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سُنّت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور کوئی موت سے بچا نہیں اورنہ آئندہ بچے گا۔ اور ُ لغت کے رُو سے خلود کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے۔کیونکہ تغیّر موت اور زوال کی تمہید ہے پس نفی خلود سے ثابت ہوا