بتصریح بیان کیا گیاہے کہ اب حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ مریم طعام نہیں کھاتے ہاں کسی زمانہ میں کھایا کرتے تھے جیسا کہ کَانَا کالفظ اس پر دلالت کررہاہے جو حال کو چھوڑکر گذشتہ زمانہ کی خبر دیتا ہے۔ اب ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم طعام کھانے سے اسی وجہ سے روکی گئی کہ وہ فوت ہوگئی اور چونکہ کَانَا کے لفظ میں جو تثنیہ کا صیغہ ہے حضرت عیسیٰ بھی حضرت مریمؔ کے ساتھ شامل ہیں اور دونوں ایک ہی حکم کے نیچے داخل ہیں لہٰذا حضرت مریم کی موت کے ساتھ اُن کی موت بھی ماننی پڑی کیونکہ آیت موصوفہ بالا میں ہرگز یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت مریم تو بوجہ موت طعام کھانے سے روکے گئے لیکن حضرت ابن مریم کسی اَور وجہ سے۔ اور جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ3 ۱ جس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ہم نے ایساجسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو۔ تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہوگئے کیونکہ پہلی آیت سے ثابت ہوگیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ جب تک یہ جسم خاکی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔ اس سے قطعی طورپر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔
(۶) چھٹی آیت یہ ہے 3 ۲ ۔ اس آیت کا پہلی آیت کے ساتھ ابھی بیان ہوچکا ہے اور درحقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کررہی ہے کیونکہ جبکہ کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا یہیؔ سُنّت اللہ ہے تو پھرحضرت مسیح کیونکر اب تک بغیرطعام کے زندہ موجود ہیں اور اللہ جلّ شانُہٗ فرماتاہے 3 ۳ ۔ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ اُن کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی اُن کو بھی مار چکی ہے۔ بیشک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ