بطور اصطلاح کے قبض روح کے لئے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تا روح کی بقاء پر دلالت کرے۔ افسوس کہ بعض علماء جب دیکھتے ہیں کہ توفّی کے معنے حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلمّا توفّیتنی میں جس توفّی کا ذکرؔ ہے وہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرہ بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلمّا توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے33 ۱؂ الخ اور ظاہر ہے کہ قَال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھانہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جوجواب حضرت عیسیٰ کی طرف سے ہے یعنی 3وہ بھی بصیغہ ماضی ہے اور اس قصہ سے پہلے جو بعض دوسرے قصّے قرآن کریم میں اسی طرز سے بیان کئے گئے ہیں وہ بھی انہیں معنوں کے مؤید ہیں۔ مثلًا یہ قصہ3 ۲؂ کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ کسی استقبال کے زمانہ میں ملائکہ سے ایسا سوال کرے گا ماسوا اس کے قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے اور حدیثیں بھی اس کی مصدّق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور باز پُرس سوالات ہواکرتے ہیں۔ (۴)ؔ چوتھی آیت جو مسیح کی موت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ آیت ہے کہ 33۔۳؂ اور ہم اسی رسالہ میں اس کی تفسیر بیان کر چکے ہیں۔ (۵) پانچویں یہ آیت ہے 33۴؂ (الجزو نمبر۶)یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے نبی فوت ہوچکے ہیں اور ماں اس کی صدیقہ ہے جب وہ دونوں زندہ تھے تو طعام کھایا کرتے تھے۔ یہ آیت بھی صریح نص حضرت مسیح کی موت پر ہے کیونکہ اس آیت میں