نازل ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔ لہذا یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے۔ مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت اُن کی روحیں علّیین تک پہنچائیؔ جاتی ہیں 33 ۱؂ ۔ (۳) تیسر ی آیت جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے یہ ہے3 ۲؂ یعنی جب تُو نے مجھے وفات د ی تو تُو ہی اُن پر نگہبان تھا۔ ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں توفّٰی کے معنے یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔ جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے کے3 3۳؂ اور پھر فرماتاہے 33 ۴؂ اور پھر فرماتا ہے 3۵؂ اور پھر فرماتا ہے 33 (الجز و نمبر ۸ سورۃ الاعراف) ۶ ؂ اور پھر فرماتا ہے33۷؂۔ ایسا ہی قرآن شریف کے تیئیس مقام میں برابر توفّی کے معنے اماتت اور قبض روح ہے۔لیکن افسوس کہ بعض علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رُو سے اس جگہ تَوَفَّیْتَنِیْ سے مراد رَفَعْتَنِیْ لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنے نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآؔ ن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے کہ جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اوّل سے آخر تک التزام کیاہے انکو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کردیا گیا ہے۔ توفی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جابجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے۔ چنانچہ جب میں نے غور سے صحاح سِتّہ کو دیکھا تو ہریک جگہ جو توفّی کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے مُنہ سے تو انہیں معنوں میں محدود پایاگیا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا توفّی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اَور معنے ہوں۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں