http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=3#page/423/mode/1up قرآؔ ن شریف کی وہ تیس آیتیں جن سے مسیح ابن مریم کا فوت ہوناثابت ہوتا ہَے (۱) پہلی آیت۔ 3 3 ۱؂ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔ (۲) دوسری آیت جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے 33 ۲؂ یعنی مسیح ابن مریم مقتول اورمصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا۔ جیساؔ کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے۔ بلکہ خدائے تعالیٰ نے عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ جاننا چاہیئے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو۔ جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَ 33۳؂ یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے ادریس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچادیا۔ کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑ ھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت اوپر ہی فوت ہوجائیں اور یا زمین پر آکر فوت ہوں۔ مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خاکی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیاجاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی سے اس کا حشر ہوگا۔ اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اوردوبارہ آسمان سے