جائز ہے مگر یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ ابن مسعود نے اپنے اس قول سے رجوع نہیں کیا تھا اورنہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مباہلہ ہو کر مخطیوں پر یہ عذاب نازل ہوا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا نبی اور رسول تو نہیں تھا۔ اُس نے جوش میں اگر غلطی کھائی تو کیا اس کی بات کو 3 ۱؂ میں داخل کیاجائے۔ صحابہ کے مشاجرات اور اختلافات پر نظر ڈالو جن کی بعض اوقات سیف وسنان تک نوبت پہنچ گئی تھی۔ حضرت معاویہ بھی تو صحابی ہی تھے جنہوں نے خطا پر جم کر ہزاروں آدمیوں کے خون کرائے۔ اگر ابن مسعود نے خطا کی تو کونسا غضب آگیا۔ اور بے شک اُس نے اگر جزئی اختلافات میں مباہلہ کی درخواست کی تو سخت خطا کی۔ جبکہ صحابیؔ سے اور باتوں میں خطا ممکن ہے تو کیا پھرمباہلہ کی درخواست میں خطاممکن نہیں۔ظاہر ہے کہ صحابہ میں کس قدر اختلافات واقع تھے۔ کوئی جسّاسہ والے دجّال کو معہود سمجھتا تھا اورکوئی قسم کھاکر کہتا تھا کہ ابن صیّاد ہی دجّال ہے۔ کوئی جسمانی معراج کا قائل تھا اور کوئی اس کو خواب بناتا تھا اورکوئی بعض سورتوں کو جیسے معوذتین قرآن شریف کی جزو سمجھتاتھا اور کوئی اس سے باہر خیال کرتا تھا۔ اب کیا یہ سارے سچ پر تھے اورجب ایک قسم کی کسی سے غلطی ہوئی تو دوسری قسم کی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کیا جہالت ہے کہ صحابی کو بکلّی غلطی اور خطا سے پاک سمجھاجائے اور اس کے مجر د اپنے ہی قول کو ایسا قبول کیاجائے جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قبول کرنا چاہیئے۔ مسلمانو! آؤ خداسے شرماؤ اوریہ نمونہ اپنی مولویت اور تفقہ کا مت دکھلاؤ۔ مسلمان تو آگے ہی تھوڑے ہیں تم ان تھوڑوں کو اَور نہ گھٹاؤ اور کافروں کی تعداد نہ بڑھاؤ۔ اور اگر ہمارے کہنے کا کچھ اثر نہیں تو اپنی تحریرات مطبوعہ کو شرم سے دیکھو اور فتنہ انگیز تقریروں سے باز آؤ۔