دُور ہوجاویں گے تو یکدفعہ فطرتی محبت کا چشمہ جوش مارے گا اور تباغض اور تحاسد دُور ہوجائے گا اور تعصب کی زہریں نکل جائیں گی اور ایک بھائی دوسرے بھائی پر نیک ظن پیدا کرے گا۔ تب اسلام کے دن پھر سعادت اور اقبال کی طرف پھریں گے اور سب مل کر اس کوشش میں لگیں گے کہ اسلام کو بڑھایا جائے اور مسلمانوں کی کثرت ہوجیسا کہ آج کل یہ کوشش ہورہی ہے کہ مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہے کم کردیا جائے اور بد سرشت مولویوں کے حکم اور فتویٰ سے دین اسلام سے خارج کر دئے جائیں اور اگر ہزار وجہ اسلام کیؔ پائی جائے تو اس سے چشم پوشی کر کے ایک بیہودہ اور بے اصل وجہ کفر کی نکال کر اُن کو ایسا کافر ٹھہرا دیا جائے کہ گویا وہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بد تر ہیں اور نہ صرف شرع کی بد استعمالی سے یہ جدّ وجہد شروع ہے۔بلکہ ایسے مادہ کے لوگوں کو الہام بھی ہورہے ہیں کہ فلاں مسلم کافر ہے اور فلاں مسلم جہنمی ہے اور فلاں ایسا کفر میں غرق ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔ اور درندگی کے جوشوں کی وجہ سے لعنتوں پر بڑ ا زور دیا جاتا ہے اور *** بازی کے لئے باہم مسلمانوں کے لئے مباہلہ کے فتوے دئے جاتے ہیں۔ اور یہ سب ملاّ یا ُ یوں کہو کہ ایک دوسرے کو کھانیوالے کیڑے اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ مسلمانوں کے تمام مذاہب میں عام طور پر اختلافاتِ جُزئیہ جاری وساری ہیں اور کسی بات میں کوئی خطاپر ہے اور کسی بات میں کوئی۔ اب کیا یہ انسانیت ہے یا ہمدردی اور ترحم میں داخل ہے کہ طریق تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمانوں کیا اَئمہ اَربعہ کے پَیرَو اور کیا محدثین کے پَیرو اور کیا متصوفین۔ اِن ادنیٰ ادنیٰ اختلافات کی وجہ سے مباہلہ کے میدان میں آکر ایک دوسرے پر *** کرنا شروع کر دیں۔ اب عقلمند سوچؔ سکتا ہے کہ اگر مباہلہ اور ملاعنہ کے بعد صاعقہ قہر الٰہی فرقہ مخطیہ پر ضروری الوقوع ہے تو کیا اس کا بجُز اس کے کوئی اَور نتیجہ ہوگا کہ یکدفعہ خدائے تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ہلاک کردے گا اور اپنے اپنے اجتہادی خطا کی وجہ سے سب ہلاک کئے جائیں گے۔ یہ نادان کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے جو مباہلہ کی درخواست کی تھی اس سے نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا باہم مباہلہ