قدم پر قدم رکھ کر یہودی بن جاؤ گے اور یہ بلائیں آخری زمانہ میں سب سے زیادہ مشرقی ملکوں میں پھیلیں گی یعنی ہندوستان وخراسان وغیرہ میں۔ تب اس یہودیت کی بیخ کنی کے لئے مسیح ابن مریم نازل ہوگا یعنی مامور ہو کر آئے گا۔ اور فرمایا کہ جیسا کہ یہ اُمّت یہودی بن جائے گی ایسا ہی ابنؔ مریم بھی اپنی صورت مثالی میں اسی اُمّت میں سے پیداہوگا نہ یہ کہ یہودی تو یہ اُمّت بنی اور ابن مریم بنی اسرائیل میں سے آوے۔ ایساخیال کرنے میں سراسر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے اور نیز آیت 3 ۱؂ کے برخلاف۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ متصوفین کے مذاق کے موافق صعود اور نزول کے ایک خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب انسان خلق اللہ سے بکلّی انقطاع کرکے خدائے تعالیٰ کی طرف جاتاہے تو اس حالت کانام متصوفین کے نزدیک صعود ہے اورجب مامور ہو کر نیچے کو اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے تو اس حالت کا نام نزول ہے۔ اسی اصطلاحی معنے کے لحاظ سے نزول کا لفظ اختیار کیا گیا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتاہے3۲؂۔ اب اس تمام تحقیقات سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ نے ابن مریم سے مراد وہ ابن مریم ہرگز نہیں لیا جو رسول اللہ تھے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ بلکہ اوّل استعارہ کے طورپر آخری زمانہ کے لوگوں کویہودی قرار دے کر اور اُن یہودیوں کا ہریک باب میں مثیل ٹھہرا کر جو حضرت مسیحؔ ابن مریم کے وقت میں تھے پھر پہلے استعارہ کے مناسب حال ایک دوسری پیشگوئی بطور استعارہ کے فرمادی کہ جب تم ایسے یہودی بن جاؤ گے تو تمہارے حال کے مناسب حال ایسا ہے کہ ایک مسیح تم میں سے ہی تمہیں دیاجائے گا اور وہ تم میں حَکَم ہو گا اور تمہارے کینہ اور بُغض کو دور کردے گا۔ شیر او ر بکری کو ایک جگہ بٹھا دے گا اور سانپوں کی زہر نکال دے گا اور بچے تمہارے سانپوں اور بچھوؤں سے کھیلیں گے اور اُن کی زہر سے ضرر نہیں اُٹھاویں گے۔ یہ تمام اشارات اِسی بات کی طرف ہیں کہ جب مذہبی اختلافات