وجہ سے جو اندرونی جھگڑوں کی طفیل سے کمال کو پہنچے گی فنا کے قریب ہوجائیں گی اور کیڑوں کی طرح ایک دوسرے کو کھاجانے کا قصد کریںؔ گے اور بیرونی حملوں کو اپنے پر وارد ہونے کے لئے موقعہ دیں گے۔ جیسا کہ اس زمانہ میں یہودیوں کے ساتھ ہوا جو اندرونی نفاقوں کی وجہ سے اُن کی ریاست بھی گئی اور قیصر کے تحت میں غلاموں کی طرح بسر کرنے لگے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ؐ کی معرفت فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسا ہی تمہارا حال ہوگا۔ تمہاری مذہبی عداوتیں اپنے ہی بھائیوں سے انتہاء تک پہنچ جائیں گے۔بغض اور حسد اور کینہ سے بھرجاؤ گے۔ اس شامت سے نہ تمہاری دنیا کی حالت اچھی رہے گی نہ دین کی نہ انسانی اخلاق کی نہ خداترسی باقی رہے گی نہ حق شناسی۔ اور پورے وحشی اور ظالم اور جاہل ہوجاؤ گے اور وہ علم جو دلوں پر نیک اثر ڈالتا ہے تم میں باقی نہیں رہے گا۔ اور یہ تمام بے دینی اور ناخداترسی اور بے مہری پہلے ممالک مشرقیہ میں ہی پیدا ہوگی اور دجّال اور یاجوج ماجوج انہیں ممالک سے خروج کریں گے یعنی اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ دکھلائی دیں گے۔ ممالک مشرقیہ سے مراد ملک فارس اور نجد اور ملک ہندوستا ن ہے۔ کیونکہ یہ سب ممالک زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہی واقع ہیں اور ضرور تھا کہ حسب پیشگوئی رسولؔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفر اور کافری انہیں جگہوں سے قوت کے ساتھ اپنا جلوہ دکھاوے انہیں ممالک میں سے کسی جگہ دجّال خروج کرے اور انہیں میں مسیح بھی نازل ہو کیونکہ جو جگہ محل کفر اور فتن ہوجائے وہی جگہ صلاح اور ایمان کی بنا ڈالنے کے لئے مقرر ہونی چاہیئے سو ان ممالک مشرقیہ میں سے ہند جیسا زیادہ تر محل کفر اور فتن اور نفاق اور بُغض اورکینہ ہوگیا ہے۔ ایسا ہی وہ زیادہ تر اس بات کے لائق تھا کہ مسیح بھی اسی ملک میں ظہور کرے اور جیسا کہ سب سے اوّل آدم کے خروج کے بعد اسی ملک پر نظر رحم ہوئی تھی ایسا ہی آخری زمانہ میں بھی اسی ملک پر نظر رحم ہو۔ اور ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر اپنی اُمّت کے حق میں فرما دیا تھا کہ تم آخری زمانہ میں بکلّی یہودیوں کے