حضرت عیسیٰ ابنؔ مریم بھی اِسی کام کے لئے آئے تھے اور اُس زمانہ میں آئے تھے جبکہ یہودیوں کے مسلمانوں کی طرح بہت فرقے ہوگئے تھے اور توریت کے صرف ظاہر الفاظ کو انہوں نے پکڑ لیا تھا اور روح اور حقیقت اس کی چھوڑ دی تھی اور نکمّی نکمّی باتوں پر جھگڑے برپا ہوگئے تھے اور باہم کمینگی اور کم حوصلگی کی وجہ سے بُغض اور حسد اور کینہ ان متفرق فرقوں میں پھیل گیا تھا۔ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا تھا اور شیر اور بکری کی عداوت کی طرح ذاتی عداوتوں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور بباعث اختلاف عقیدہ اپنے بھائیوں سے محبت نہیں رہی تھی بلکہ درندگی پھیل گئی تھی اور اخلاقی حالت بغایت درجہ بگڑ گئی تھی اور باہمی رحم اور ہمدردی بکلّی دور ہوگئی تھی۔ اور وہ لوگ ایسے حیوانات کی طرح ہو گئے تھے کہ حقیقی نیکی کو ہرگز شناخت نہیں کر سکتے تھے اور تباغض تحاسد کا بازار گرم ہوگیا تھا اور صرف چند رسوم اور عادات کو مذہب سمجھا گیا تھا۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اُمّت کو بشارت دی تھی کہ آخری زمانہ میں تمہار ا بھی یہی حال ہوگا۔ بہت سے فرقے تم میں نکل آئیں گے اورؔ بہت سے متضاد خیالات پیداہوجائیں گے اور ایک گروہ دوسرے گروہ کو یہودیوں کی طرح کافر سمجھے گا اور اگر ننانوے وجوہ اسلام کے موجودہوں تو صرف ایک وجہ کو کفر کی وجہ سمجھ کر کافر ٹھہرایا جائے گا۔ سو باہمی تکفیر کی وجہ سے سخت نفرت اور بُغض اور عداوت باہم پیداہوجائے گی۔ اور بوجہ اختلاف رائے کے کینہ اور حسد اور درندوں کی سی خصلتیں پھیل جائیں گی اور وہ اسلامی خصلت جو ایک وجود کی طرح کامل اتحاد کو چاہتی ہے اور محبت اور ہمدردی باہمی سے پُر ہوتی ہے بکلّی تم میں سے دور ہوجائے گی اور ایک دوسرے کو ایسا اجنبی سمجھ لے گا کہ جس سے مذہبی رشتہ کا بکلّی تعلق ٹوٹ جائے گا اور ایک گروہ دوسرے کو کافر بنانے میں کوشش کرے گا جیسا کہ مسیح ابن مریم کی بعثت کے وقت یہی حال یہود کا ہورہا تھا اور اس اندرونی تفرقہ اور بُغض او ر حسد اور عداوت کی وجہ سے دوسری قوموں کی نظر میں نہایت درجہ کے حقیر اور ذلیل اور کمزورہوجائیں گے اور اس معکوس ترقی کی