اور اس انقلاب عظیم پر خوب غور سے نظر دوڑانی چاہیئے کہ چونکہ حضرت مسیح (اگر اُنکا نزول فرض کیا جائے) ایسی حالت میں آئیں گے کہ اُن کو شریعت محمدیہ سے جو غیرزبان میں ہے کچھ بھی خبر نہیں ہو گی اور وہ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ قرآنی تعلیم پر اُن کو اطلاع ہو اور ان تفصیلات احکام دین پر بھی مطلع ہوجائیں جو احادیث کی رو سے معلوم ہوتے ہیں غرض شریعت محمدیہ کے تمام اجزاء پر خواہ وہ از قبیل عقائد ہیں یا از قسم عبادات یا از نوع معاملات یا ازقبیل قوانین قضاء وفصل مقدمات اطلاع پانا اُن کے لئے ضروری ہوگا اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ معمّر ہونے کی حالتؔ میں ایک عمر خرچ کر کے دوسروں کی شاگردی کریں لہٰذا اُن کے لئے یہی لا بُدی اور ضروری ہے کہ جمیع اجزاء شریعت کے نئے سرے اُن پر نازل ہوں کیونکہ بجُز اس طریق کے استعلام مجہولات کے لئے اَور کوئی اُن کے لئے راہ نہیں۔ اور رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے یہی سُنت اللہ قدیم سے جاری ہے جو وہ بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ نزول آیات ربّانی اور کلام رحمانی کے سکھلائی جاتی ہیں اور جبکہ تمام قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ نئے سرے معرفت جبرائیل علیہ السلام کے حضرت مسیح کی زبان میں ہی اُن پر نازل ہوجائے گی اور جیسا کہ احادیث میںآیاہے ِ جزیہ وغیرہ کے متعلق بعض بعض احکام قرآن شریف کے منسوخ بھی ہو جائیں گے۔تو ظاہر ہے کہ اس نئی کتاب کے اُترنے سے قرآن شریف توریت وانجیل کی طرح منسوخ ہوجائے گا اور مسیح کانیا قرآن جو قرآن کریم سے کسی قدر مختلف بھی ہوگا اجرا اورنفاذ پائے گا اور حضرت مسیح نماز میں اپنا قرآن ہی پڑھیں گے اور وہی قرآن جبرً ا قہرًا دوسروں کو بھی سکھلایاجائے گا۔ا ور بظاہر معلوؔ م ہوتا ہے کہ اس وقت یہ کلمہ بھی کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کسی قدر ترمیم و تنسیخ کے لائق ٹھہرے گا۔ کیونکہ جبکہ کل شریعت محمدؐیہ کی نعوذ باللہ (نقل کفرکفر نباشد) بیخ کنی ہوگئی اور ایک اَور ہی قرآن گو وہ ہمارے قرآن کریم سے کسی قدر مطابق ہی سہی آسمان سے نازل ہوگیا تو پھر کلمہ بھی ضرور واجب التبدیل ہوگا۔ بعض بہت