یہی ہے کہ وہ بھی موت کے بعد ہی اُٹھایا گیا تھا۔ پھر لکھتے ہیں کہ شیعہ کا یہ بھی قول ہے کہ آسمان سے آنیوالا عیسیٰ کوئی بھی نہیں درحقیقت مہدی کا نام ہی عیسیٰ ہے پھر بعد اس کے تحریر فرماتے ہیں کہ بعض صوفیوں نے اپنے کشف سے اسی کے مطابق اِس حدیث کے معنے کہ لَا مَھْدِی اِلّا عِیْسٰی یہ کئے ہیں کہ مہدی جو آنے والا ہے درحقیقت عیسیٰ ہی ہے کسی اَورعیسیٰ کی حاجت نہیں جو آسمان سے نازل ہو۔ اور صوفیوں نے اس طرح آخرالزمان کے مہدی کو عیسیٰ ٹھہرایا ہے کہ وہ شریعت محمدیہ کیؔ خدمت کے لئے اُسی طرز اور طریق سے آئے گا جیسے عیسیٰ شریعت موسویہ کی خدمت اور اتباع کے لئے آیا تھا۔ پھر صفحہ ۴۳۱ میں لکھتے ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ پر اس کے نزول کے بعد رسولوں کی طرح وحی نبوت نازل ہوتی رہے گی۔ جیسا کہ مسلم کے نزدیک نواس بن سمعان کی حدیث میں ہے کہ یقتل عیسی الدجال عند باب لد الشرقی فبینھما ھم کذالک اذ اوحی اللہ تعالٰی الٰی عیسی بن مریم یعنی جب عیسیٰ دجّال کو قتل کرے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرے گا۔ پھرلکھتے ہیں کہ وحی کالانیوالا جبرائیل ہوگا کیونکہ جبرائیل ہی پیغمبروں پر وحی لاتا ہے۔ اس تمام تقریر سے معلوم ہوا کہ چالیس ۴۰ سال تک برابر جو مدّت توقف حضرت مسیح کی دنیا میں بعد دوبارہ آنے کے لئے قرار دی گئی ہے حضرت جبرائیل وحی الٰہی لے کر نازل ہوتے رہیں گے۔ اب ہریک دانشمند اندازہ کر سکتا ہے کہ ؔ جس حالت میں تیئیس برس میں تیس جزو قرآن شریف کی نازل ہوگئی تھیں تو بہت ضروری ہے کہؔ اس چالیس ۴۰ برس میں کم سے کم پچاس جزو کی کتاب اللہ حضرت مسیح پر نازل ہوجائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہوجائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیداہو جائے۔ اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے فتدبّر۔