منفعل ہوکر جواب دیتے ہیں کہ اگرچہ درحقیقت یہ صریح خرابیاں ہیں جن سے انکار نہیں ہو سکتا۔ مگر کیا کریں درحقیقت اِسی بات پر اجماع ہوگیاہے کہ حضرت مسیح رسول اللہ ہونے کی حالت میں نزول فرمائیں گے اور چالیس برس حضرت جبرائیل علیہ السلام ان پر نازل ہوتے رہیں گے۔ چنانچہ یہی مضمون حدیثوں سے بھی نکلتا ہے اس کے جواب میں مَیں کہتا ہوں کہ اس قدر تو بالکل سچ ہے کہ اگر وہی مسیح رسول اللہ صاحبِ کتاب آجائیں گے جن پر جبرائیل نازل ہواکرتا تھا تو وہ شریعت محمدیہ کے قوانین دریافت کرنے کے لئے ہرگز کسی کی شاگردی اختیار نہیں کریں گے بلکہ سُنّت اللہ کے موافق جبرائیل کی معرفت وحی الٰہی اُن پر نازل ہوگی اور شریعت محمدیہ کے تمام قوانین اورؔ احکام نئے سرے اور نئے لباس اور نئے پیرایہ اور نئی زبان میں اُن پر نازل ہوجائیں گے اور اس تازہ کتاب کے مقابل پر جو آسمان سے نازل ہوئی ہے قرآن کریم منسوخ ہوجائیگا۔ لیکن خدائے تعالیٰ ایسی ذلّت اور رسوائی اِس اُمّت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روانہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے اسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجاجائے گا۔ اور حدیثوں کے پڑھنے والوں نے یقینًا یہ بڑی بھاری غلطی کھائی ہے کہ صرف عیسیٰ یا ابن مریم کے لفظ کو دیکھ کر اس بات کو یقین کرلیا ہے کہ سچ مچ وہی ابن مریم آسمان سے نازل ہوجائے گا جو رسول اللہ تھا۔ اور اس طرف خیال نہیں کیا کہ اُس کا آنا گویا دین اسلام کا دنیا سے رخصت ہونا ہے یہ تو اجماعی عقیدہ ہوچکا۔ اور مسلم میں اِس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی اُمّتی شخص مرادہو جو محدثیت کا مرتبہ رکھتا ہوتو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتیؔ ۔ کیونکہ محدّث من وجہٍ نبی بھی ہوتا ہے مگر وہ ایسا نبی ہے جو نبوت محمدیہ کے چراغ سے روشنی حاصل کرتا ہے اور اپنی