ایسا خیال کیاگیا ہے کہ اُن کے نزول سے پہلے محمد ابن عبداللہ مہدی کی بیعت میں سب داخل ہوچکیں گے تو اس صورت میں اور بھی یہ مصیبت پیش آئے گی کہ اُن کا مہدی کی بیعت سے تخلّف کرنا سخت معصیت میں داخل ہوگا۔ بلکہ وہ بموجب حدیث مَن شذَّ شُذَّ فِی النارِ ضرور مہدی کی بیعت کریں گے یا خلیفۂ وقت کے نہ ماننے کی وجہ سے اُن پر فتویٰ...... لگ جائیگا۔
پھر اسی کتاب آثار القیامۃ کے صفحہ ۴۲۷میں لکھا ہے کہ ابن خلدون کا قول ہے کہ متصوفین نے اپنے کشف سے یہ گمان کیا ہے کہؔ سن سات سو تینتالیس میں خروج دجّال ہوگا۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ کشف بھی صحیح نہ نکلا۔ پھر لکھتے ہیں کہ یعقوب بن اسحاق کندی نے بھی کشف کی رُو سے چھ سو اٹھانوے سال نزول مسیح کے لئے دریافت کئے تھے مگر اس سے بھی بہت زیادہ مدّت گذر گئی لیکن اب تک مسیح نہ آیا۔ پھر لکھتے ہیں۔کہ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں امید رکھتاہوں کہ اگرمیری عمر کچھ لمبی ہوگی تو عیسیٰ بن مریم میرے ہی وقت میں ظہور کرے گا یعنی محمد بن عبد اللہ مہدی کا درمیان میں ہونا ضروری نہیں بلکہ امید سے بعید نہیں کہ میرے ہی وقت میں مسیح ابن مریم آجائے لیکن اگر میری عمر وفا نہ کرے تو جو شخص اس کو دیکھے میری طرف سے اس کو السلام علیکم کہہ دے۔ اس حدیث کو مسلم اور احمد نے بھی لکھا ہے۔ اس جگہ مولوی صدیق حسن صاحب لکھتے ہیں کہ اگر میرے جیتے جیتے حضرت مسیح آجائیں تو میری تمنّا ہے کہ حضرت خاتم المرسلین کا السلام علیکم میں اُن کو پہنچادُوں۔ مگر یہ سب تمنّا ہی تھی۔ خدائے تعالیٰ اُن پر رحم کرے۔ مجدّد الف ثانی صاحب نے ٹھیک لکھا ہے کہؔ جب مسیح آئے گا تو تمام مولوی اُن کی مخالفت پر آمادہ ہوجائیں گے اور خیال کریں گے کہ یہ اہل الرائے ہے اور اجماع کو ترک کرتا ہے اور کتاب اللہ کے معنے اُلٹاتا ہے۔
پھر لکھتے ہیں کہ عیسیٰ کی موت قبل از رفع کے بارے میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ موت کے بعد اُٹھایا گیاہے اور پھر بھی آکر مرے گا اِس لئے اُس کے لئے دوموتیں ہیں۔ اور ہر چند آیت وَ3 ۱ میں ادریس کی موت کا ذکر نہیں لیکن صحیح مذہب