نازل ہونا برابر ہے۔ ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیاہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیاہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔ لیکن اگرہم فرض کے طور ؔ پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرئیل کے نزول اور کلام الٰہی کے اُترنے کا پھر سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو۔ علاوہ اس کے ہر یک عاقل معلوم کر سکتا ہے کہ اگر سلسلہ نزول جبرائیل اور کلام الٰہی کے اُترنے کا حضرت مسیح کے نزول کے وقت بکلّی منقطع ہوگا تو پھر وہ قرآن شریف کو جو عربی زبان میں ہے کیوں کر پڑھ سکیں گے۔ کیا نزول فرماکر دوچار سال تک مکتب میں بیٹھیں گے اور کسی مُلّا سے قرآن شریف پڑھ لیں گے۔ اگرفرض کر لیں کہ وہ ایسا ہی کریں گے تو پھر وہ بغیر وحی نبوت کے تفصیلات مسائل دینیہ مثلًا نماز ظہر کی سُنت جو اتنی رکعت ہیں اور نماز مغرب کی نسبت۱ جو اتنی رکعات ہیں اور یہ کہ زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہے۔ اور نصاب کیاہے کیوں کر قرآن شریف سے استنباط کر سکیں گے۔ اور یہ تو ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ حدیثوں کی ؔ طرف رجوع بھی نہیں کریں گے۔ اور اگر وحی نبوت سے ان کو یہ تمام علم دیا جائے گا تو بلاشبہ جس کلام کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات اُن کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی۔ پس ظاہر ہے کہ اُن کے دوبارہ آنے میں کس قدرخرابیاں اور کس قدر مشکلات ہیں۔ منجملہ اُن کے یہ بھی کہ وہ بوجہ اس کے کہ وہ قوم کے قریشی نہیں ہیں کسی حالت میں امیر نہیں ہو سکتے۔ناچار اُن کو کسی دوسرے امام اور امیر کی بیعت کرنی پڑے گی۔ بالخصوص جبکہ