ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جُز کُل میں داخل ہوتی ہے لیکن مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی جس کے ساتھ جبرائیل ؑ کابھی نازل ہونا ایک لازمی امر سمجھا گیا ہے کسی طرح اُمّتی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اُس پر اُس وحی کا اتباع فرض ہو گا جووقتًا فوقتًا اس پر نازل ہوگی جیساؔ کہ رسولوں کی شان کے لائق ہے اور جب کہ وہ اپنی ہی وحی کا متبع ہوا اور جونئی کتاب اس پر نازل ہوگی اُسی کی اُس نے پیروی کی تو پھر وہ اُمّتی کیوں کر کہلائے گا۔ اور اگر یہ کہو کہ جو احکام اُس پر نازل ہوں گے وہ احکام قرآنیہ کے مخالف نہیں ہوں گے تو میں کہتا ہوں کہ محض اس توارد کی وجہ سے وہ اُمّتی نہیں ٹھہر سکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ بہت سا حصہ توریت کا قرآن کریم سے بکلّی مطابق ہے تو کیا نعوذ باللہ اس توارد کی وجہ سے ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کی اُمّت میں سے شمار کئے جائیں گے۔ توارد اور چیز ہے اور محکوم بن کر تابعدار ہوجانا اور چیز ہے۔ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہوکر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل لگا تار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم اور صلٰوۃ اور زکٰوۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے۔توؔ پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہاجائے گا کہ تُوقرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہوجائے گی اور کبھی حضرت جبرئیل اُن پر نازل نہیں ہوں گے بلکہ وہ بکلّی مسلوب النبوت ہو کر اُمتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کانزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چُپ ہوجاویں یہ امر بھی ختم نبوت کامنافی ہے کیونکہ جب ختمیت کی مُہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت