یہ اِ س زمانہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب عیسائی سوسائٹی جو یہودیت کی صفتیں بھی اپنے اندر رکھتی ہے، عام طور پر مسلمانوں کے خیالات،مسلمانوں کے عادات، مسلمانوں کے لباس، مسلمانوں کی طرز معاشرت پر اپنے جذباؔ ت کا اثر ڈالے۔ سو دراصل وہ یہی زمانہ ہے جس سے روحانیت بکلّی دور ہوگئی ہے خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس زمانہ کے لئے کوئی ایسا مصلح بھیجے جو یہودیت اور عیسائیت کی زہرناک خصلتوں کو مسلمانوں سے مٹا دے۔ پس اُس نے ایک مصلح ابن مریم کے نام پر بھیج دیا تا معلوم ہو کہ جن کی طرف وہ بھیجا گیا ہے وہ بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح ہو چکے ہیں۔ سو جہاں یہ لکھا ہے کہ تم میں ابن مریم اُترے گا وہاں صریح اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس وقت تمہاری ایسی حالت ہوگی جیسی مسیح ابن مریم کے مبعوث ہونے کے وقت یہودیوں کی حالت تھی۔ بلکہ یہ لفظ اسی اشارہ کی غرض سے اختیار کیاگیا ہے تا ہر یک کو خیال آجائے کہ خدائے تعالیٰ نے پہلے ان مسلمانوں کو جن میں ابن مریم کے اُترنے کا وعدہ دیا تھا یہودی ٹھہرا لیا ہے۔ افسو س کہ ہمارے علماء میں سے اس اشارہ کو کوئی نہیں سمجھتا اور یہودیوں کی طرح صرف ظاہر لفظ کو پکڑ کر بار بار یہی بات پیش کرتے ہیں کہ سچ مچ مسیح ابن مریم کا آنا ضروری ہے وہ ذرہ خیال نہیں کرتے کہ اگر کسی کو کہا جائے کہ تُو فرعون کی طرح بگڑ گیا ہے اب تیرے درست کرنے کے لئے موسیٰ آئے گا تو کیا اس عبارت کے یہ معنے ہوں گے کہ سچ مچ موسیٰ رسول اللہ جس پر توریت نازل ہوئی تھی پھر زندہ ہوکرآجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ ہرگز یہ معنے نہیں ہوؔ ں گے بلکہ ایسے قول سے مراد یہ ہو گی کہ کوئی مثیل موسیٰ تیرے درست کرنے کے لئے آئے گا۔ سو اسی طرح جاننا چاہیئے کہ احادیث نبویہ کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم آخری زمانہ میں یہودیوں کی طرح چال چلن خراب کر دو گے تو تمہارے درست کرنے کے لئے عیسیٰ ابن مریم آئے گا۔ یعنی جب تم اپنی شرارتوں کی وجہ سے یہودی بن جاؤ گے تو میں بھی عیسیٰ ابن مریم کسی کو