پھرؔ صفحہ ۴۲۵ میں فرماتے ہیں کہ اِس بات پر تمام سلف و خلف کا اتفاق ہو چکا ہے کہ عیسیٰ جب نازل ہوگا تو اُمّت محمدیہ میں داخل کیاجائے گا۔ اور فرماتے ہیں کہ قسطلانی نے بھی مواہب لدنّیہ میں یہی لکھا ہے اور عجب تر یہ کہ وہ اُمّتی بھی ہوگا اور پھر نبی بھی۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب مرحوم کو یہ سمجھ نہ آیا کہ صاحب نبوت تامہ ہرگز اُمتی نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے وہ کامل طورپر دوسرے نبی کا مطیع اور اُمتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے رو سے بکلّی ممتنع ہے اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہے33 ۱ یعنی ہر یک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتاہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔ ہاں محدّث جو مرسلین میں سے ہے اُمّتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ اُمتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلّی تابع شریعت رسول اللہ اور مشکٰوۃ رسالت سے فیض پانے والاہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ نبیوں سامعاملہ اس سے کرتا ہے اور محدّث کا وجود انبیاء اور اُمم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہؔ اگرچہ کامل طور پر اُمتی ہے مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔
اب سمجھنا چاہیئے کہ چونکہ مقدّر تھا کہ آخری زمانہ میں نصاریٰ اور یہود کے خیالاتِ باطلہ زہر ہلاہل کی طرح تمام دنیا میں سرایت کر جائیں گے اور نہ ایک راہ سے بلکہ ہزاروں راہوں سے اُن کا بداثر لوگوں پر پہنچے گا اورا س زمانہ کے لئے پہلے سے احادیث میں خبر دی گئی تھی کہ عیسائیت اور یہودیت کی بُری خصلتیں یہاں تک غلبہ کریں گی کہ مسلمانوں پر بھی اس کا سخت اثر ہوگا،مسلمانوں کا طریقہ،مسلمانوں کا شعار،مسلمانوں کی وضع بکلّی یہود و نصاریٰ سے مشابہ ہوجائے گی اور جو عادتیں یہود اور نصاریٰ کو پہلے ہلاک کر چکی ہیں وہی عادتیں اسباب تاثّر کے پیدا ہوجانے کیوجہ سے مسلمانوں میں آجائیں گی۔