بنا کر تمہاری طرف بھیجوں گا اور جب تم اشد سرکشیوں کی وجہ سے سیاست کے لائق ٹھہرجاؤ گے تو محمد ابن عبداللہ ظہور کرے گا جو مہدی ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وعدے کہ محمد بن عبداللہ آئے گا یا عیسیٰ ابن مریم آئے گا در اصل اپنی مراد ومطلب میں ہمشکل ہیں۔ محمد بن عبداللہ کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب دنیا ایسی حالت میں ہوجائے گی جو اپنی درستی کے لئے سیاست کی محتاج ہوگی تو اُس وقت کوئی شخص مثیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوکر ظاہر ہوگا اور یہ ضرور نہیں کہ درحقیقت اس کا نام محمد ابن عبداللہ ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک اس کا نام محمد ابن عبد اللہ ہوگا۔ کیونکہ وہ آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کا مثیل بن کر آئے گا۔ اسی طرح عیسیٰ بن مریم کے آنے سے مقصود یہ ہے کہ جب عقل کی بداستعمالی سے دنیا کے لوگ یہودیوں کے رنگ پر ہوجائیں گے اور روحانیت اور حقیقت کو چھوڑ دیں گے اور خداپرستی اور حُبِّ الٰہی دلوں سے اُٹھ جائے گی تو اُس وقت وہ لوگ اپنی روحانی اصلاح کے لئے ایک ایسے مصلح کے محتاج ہوں گے جو روح ا ور حقیقت اور حقیقی نیکی کی طرف ان کو توجہ دلاوے اور جنگ اور لڑائیوں سے کچھ واسطہ نہ رکھے اور یہ منصب مسیح ابن مریم کے لئے مسلّم ہے کیونکہ وہ خاص ایسے کام کے لئے آیاتھا اور یہ ضرور نہیں کہ آنے والے کانام درحقیقت عیسیٰ ابن مریم ہی ہو۔ بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک قطعی طور پر اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے۔ جیسے یہودیوں کے نام خدائے تعالیٰ نے بندر اور سؤر رکھے اور فرمادیا 33 ۱؂ ایسا ہی اُس نے اِس اُمّت کے مفسد طبع لوگوں کو یہودی ٹھہرا کر اس عاجز کا نام مسیح ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرمادیا جعلناک المسیح ابن مریم۔ پھر مولوی صدیق حسن صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم جب نازل ہوگا تو قرآن کریم کے تمام احکام حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ سے اُن پر کھولے جائیں گے یعنی وحی اُن پر نازل ہوا کرے گی۔ مگر وہ حدیث کی طرف رجوع نہیں کرے گا کیونکہ وحی کے