اور شائع ہوگیا ہے اور فسق و فجور کا بازار گرم ہے اور بغض اور حسد اور عداوت پھیل گئی ہے اور مال کی محبت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور تحصیل اسباب معاش سے ہمتیں ہار گئیں اور دارآخرت سے بکلّی فراموشی ہوگئی اور کامل طورپر دنیا کو اختیار کیا گیا۔ سو یہ علامات بیّنہ اور امارات جلیہ اس بات پر ہیں کہ اب وہ وقت بہت نزدیک ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مولوی صدیق حسن صاحب کا یہ کہنا کہ کسیؔ صحیح حدیث سے مسیح کے ظہور کا کوئی زمانہ خاص ثابت نہیں ہوتا صرف اولیاء کے مکاشفات سے معلوم ہوتا ہے کہ غایت کا ر تیرھویں صدی کے اخیر تک اس کی حد ہے۔ یہ مولوی صاحب کی سراسر غلطی ہے اور آپ ہی وہ مان چکے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ آدم کی پیدائش کے بعد عمر دنیا کی سات ہزار برس ہے اور اب عمر دنیا میں سے بہت ہی تھوڑی باقی ہے۔ پھر صفحہ ۳۸۵ میں لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ نے انس سے یہ حدیث بھی لکھی ہے جس کو حاکم نے بھی مستدرک میں بیان کیا ہے کہ لا مھدی الّا عیسٰی ابن مریم یعنی عیسیٰ بن مریم کے سوا اور کوئی مہدی موعود نہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ مہدی کا آنا بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوتاہے۔ میں کہتا ہوں کہ مہدی کی خبریں ضعف سے خالی نہیں ہیں اِسی وجہ سے امامین حدیث نے ان کو نہیں لیا۔ اور ابن ماجہ اور مستدرک کی حدیث ابھی معلوم ہو چکی ہے کہ عیسیٰ ہی مہدی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ ہم اس طرح پر تطبیق کردیں کہ جو شخص عیسیٰ کے نام سے آنے والا احادیث میں لکھا گیا ہے اپنے وقت کا وہی مہدی اور وہی امام ہے اور ممکن ہے کہ اس کے بعد کوئی اور مہدی بھی آوے اور یہی مذہب حضرت اسمٰعیل بخاری کا بھی ہے۔ کیونکہ اگر اُن کا بجُز اس کے کوئی اور اعتقاد ہوتا تو ضرور وہ اپنی حدیث میں ظاہر فرماتے۔ لیکن وہ صرف اسی قدر کہہ کر چُپ ہوگئے کہ ابن مریم تم میں اُترے گا جو تمہارا امام ہوگا اور تم میں سے ہی ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ امام وقت ایک ہی ہوا کرتا ہے۔