کیونکہ پیشگوئیوں کے اوقات معیّنہ قطعی الدلالت نہیں ہوتے۔ بسا اوقات ان میں ایسے استعارات بھی ہوتے ہیں کہ دن بیان کئے جاتے ہیں اور اُن سے برس مراد لئے جاتے ہیں۔ پھر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے رسالہ سیفؔ مسلول کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ رسالہ مذکورہ میں لکھاہے کہ علماء ظاہری اور باطنی کا اپنے ظن اور تخمین سے اس بات پر اتفاق ہے کہ تیرھویں صدی کے اوائل میں ظہور مہدی کاہوگا۔ پھرلکھتے ہیں کہ بعض مشائخ اپنے کشف سے یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ مہدی کا ظہور بارہ سو برس سے پیچھے ہوگا اور تیرھویں صدی سے تجاوز نہیں کریگا۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ سا ل تو گذر گئے اور تیرھویں صدی سے صرف دس برس رہ گئے او ر ابتک نہ مہدی نہ عیسیٰ دنیا میں آئے۔ یہ کیا ہوا۔ پھر اپنی رائے لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر اُن کا ظہور ہوگا۔ پھرلکھتے ہیں کہ قرائن یہ ہیں کہ تیرھویں صدی میں دجّالی فتنے بہت ظہور میں آگئے ہیں اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح نمودار ہو رہے ہیں اور اس تیرھویں صدی کا فتن و آفات کا ایک مجموعہ ہونا ایک ایسا امر ہے کہ چھوٹے بڑے کی زبان پر جاری ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم بچے تھے تو بڈھی عورتوں سے سنتے تھے کہ حیوانات نے بھی اس تیرھویں صدی سے پناہ چاہی ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ ہر چند یہ مضمون کسی صحیح حدیث سے ٹھیک ٹھیک معلومؔ نہیں ہوتا لیکن جب انقلاب عالم کا ملاحظہ کریں اور بنی آدم کے احوال میں جو فرق صریح آگیا ہے اس کو دیکھیں تو یہ ایک سچا گواہ اِس بات پر ملتا ہے کہ پہلے اس سے دنیا کا رنگ اس عنوان پر نہیں تھا سو اگرچہ مکاشفات مشائخ کے پورے بھروسہ کے لائق نہیں کیونکہ کشف میں خطا کا احتمال بہت ہے لیکن کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے جو مہدی اور عیسیٰ کا ظہور ہو۔ کیونکہ امارات صغریٰ بجمیعہا وقوع میں آگئی ہیں اور عالم میں ایک تغیر عظیم پایاجاتا ہے اور اہل عالم کی حالت نہایت درجہ پر بدل گئی ہے اور کامل درجہ کا ضعف اسلام پر وارد ہوگیا ہے۔ اور وہ حقیقت نورانیہ جس کا نام علم ہے وہ دنیا سے اُٹھ گئی ہے اور جہل بڑھ گیا ہے