وقتؔ و تاریخ نزُ ول مسیح موعُود حسب اقوال اکابر سلف و خلف ودیگر حالات منقولہ از کتاب اٰ ثارالقیامۃ مولوی سید صدیق حسن خاں صاحب مرحوم نے جن کو مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب مجدّد قرار دے چکے ہیں۔ اپنی کتاب آثار القیامۃ کے صفحہ ۳۹۵ میں بتصریح لکھا ہے کہ ظہور مہدی اور نزول عیسیٰ اور خروج دجّال ایک ہی صدی میں ہو گا۔ پھر لکھا ہے کہ امام جعفر صادق کی یہ پیشگوئی تھی کہ سن دو سو ہجری میں مہدی ظہور فرمائے گا لیکن وہ برس تو گذر گئے اور مہدی ظاہر نہ ہوا۔ اگر اس پیشگوئی کی کسی کشف یا الہام پر بناء تھی تو تاویل کی جائیگی یا اس کشف کو غلط ماننا پڑے گا۔ پھرؔ بیان کیا ہے کہ اہل سُنّت کا یہی مذہب ہے کہ اَ لْاٰیَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْن یعنی بارہ سو برس کے گذرنے کے بعد یہ علامات شروع ہوجائیں گی اور مہدی اور مسیح اور دجّال کے نکلنے کا وقت آجائے گا ۔ پھر نعیم بن حماد کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ابو قبیل کا قول ہے کہ سن بارہ سو چار ہجری میں مہدی کا ظہور ہو گا۔ لیکن یہ قول بھی صحیح نہ نکلا۔ پھر بعد اس کے شاہ ولی اللہ صاحب محدّث دہلوی کا ایک کشف لکھتے ہیں کہ ان کو تاریخ ظہور مہدی کشفی طورپر چراغ دین کے لفظ میں بحساب جمل منجانب اللہ معلوم ہوئے تھے یعنی ۱۲۶۸۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ سال بھی گذر گئے اور مہدی کا دنیا میں کوئی نشان نہ پایا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ شاہ ولی اللہ کا یہ کشف یا الہام صحیح نہیں تھا۔ میں کہتا ہوں کہ صرف مقررہ سالوں کا گزرجانا اس کشف کی غلطی پر دلالت نہیں کرتا ہاں غلط فہمی پر دلالت کرتا ہے۔