میں نے اس کتاب میں نہایت زبردست ثبوتوں سے مسیح کا فوت ہوجانا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کردیا ہے اور میں نے بداہت کی حد تک اس بات کو پہنچا دیا ہے کہ مسیح زندہ ہو کر جسم عنصری کے ساتھ ہرگز آسمان کی طرف اُٹھایا نہیں گیا بلکہ اَور نبیوں کی موت کی طرح اُس پر بھی موت آئی اور دائمی طورپر وہ اس جہان سے رخصت ہؤا۔ اگر کوئی مسیح کا ہی پرستار ہے تو سمجھ لے کہ وہ مر گیا اور مرنے والوں کی جماعت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوگیا۔ سو تم تائید حق کے لئے اس کتاب سے فائدہ اٹھاؤ اور سرگرمی کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر کھڑے ہوجاؤ۔ چاہئے کہ یہی ایک مسئلہ ہمیشہ تمہار ے زیر توجہ اور پورا بھروسہ کرنیکے لائق ہو جو درحقیقت مسیح ابن مریم فوت شدہ گروہ میں داخل ہے۔ میں نے اس بحث کو اس کتاب میں بڑی دلچسپی کے ساتھ کامل اور قوی دلائل سےؔ انجام تک پہنچایا ہے اور خدائے تعالیٰ نے اس تالیف میں میری وہ مدد کی ہے جو میں بیان نہیں کر سکتا اور میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دُور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے۔ جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پُتلی کی طرح اس ُ مشتِ خاک کو کھڑا کردیاہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں۔ کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں۔