اے خدا اے میرے قادر خدا مدد کر کہ لوگوں نے افراط اور تفریط کی راہیں لے لی ہیں۔ بعض نے تیرے کلام کے بیّنا ت تیرے کلام کے اشارات تیرے کلام کے دلالات تیرے کلام کی فحوا کو بکلّی چھوڑ کر بے بنیاد لکیر کو اس کی جگہ پسند کرلیا اور بعض نے تیرے کلام کو بھی چھوڑا اور لکیر کو بھی چھوڑا اور صرف اپنی ناقص عقل کو اپنا رہبر بنا لیا اور امام الرسل کو چھوڑ کر یورپ کے تاریک خیال محجوب فلاسفروں کو اپنا امام بنا لیا۔
اے میرے دوستو! اب میری ایک آخر ی وصیت کو سنو اور ایک راز کی بات کہتا ہوں اس کو خوب یاد رکھو کہ تم اپنے ان تمام مناظرات کا جو عیسائیوں سے تمہیں پیش آتے ہیں پہلو بدل لو اور عیسائیوں پر یہ ثابت کر دو کہ درحقیقت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکا ہے۔ یہی ایک بحث ہے جس میں فتحیاب ہونے سے تم عیسائی مذہب کی روئے زمین سے صف لپیٹ دوگے۔ تمہیں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے لمبے لمبے جھگڑوں میں اپنے اوقاتِ عزیز کو ضائع کرو۔ صرؔ ف مسیح ابن مریم کی وفات پر زور دو اور پُر زور دلائل سے عیسائیوں کو لاجواب اور ساکت کر دو۔ جب تم مسیح کا مردوں میں داخل ہونا ثابت کردو گے اور عیسائیوں کے دلوں میں نقش کردو گے تو اُس دن تم سمجھ لو کہ آج عیسائی مذہب دنیا سے رخصت ہوا۔ یقینًا سمجھو کہ جب تک ان کا خدا فوت نہ ہو اُن کا مذہب بھی فوت نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری تمام بحثیں اُن کے ساتھ عبث ہیں۔اُنکے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ اس ستون کو پاش پاش کرو پھر نظر اُٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے۔ چونکہ خدائے تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اِس ستون کو ریزہ ریزہ کر ے اور یوروپ اور ایشیا میں توحید کی ہو ا چلا دے۔ اِس لئے اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ چنانچہ اس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تُوؔ آیا ہے وکان وعداللّٰہ مفعولا انت معی وانت علی الحق المبین انت مصیب ومعین للحق۔