اس کے علاوہ اور آلات اور محک بھی تو ہیں جن کے ذریعہ سے اعلیٰ درجہ کی صداقتیں آزمائی جاتی ہیں۔ بلکہ اگر سچ پوچھو تو قانون قدرت مصطلحہ حکماء کے ذریعہ سے جو جو صداقتیں معلوم ہوتی ہیں وہ ایک ادنیٰ درجہ کی صداقتیں ہیں لیکن اس فلسفی قانون قدرت سے ذرہ اُوپر چڑھ کرایک اور قانون قدرت بھی ہے جو نہایت دقیق اور غامض اور بباعث دقّت و غموض موٹی نظروں سے چھپا ہُو ا ہے جو عارفوں پر ہی کھلتا ہے اور فانیوں پر ہی ظاہر ہوتاہے۔ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کے قوانین شناس اس کو شناخت نہیں کر سکتے اور اس سے منکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو امور اس کے ذریعہ سے ثابت ہوچکے ہیں اور جو سچائیاں اس کی طفیل سے بپایہ ثبوت پہنچ چکی ہیں وہ ان سفلی فلاسفروں کی نظر میں اباطیل میں داخل ہیں۔ ملائک کو یہ لوگ صرف قویٰ خیال کرتے ہیں اور وحی کو یہ لوگ صرف فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ سمجھتے ہیں یا ہر یک بات جو دل میں پڑتی ہے اس کا نام وحی رکھؔ لیتے ہیں اور قرآن کریم اور دوسری الٰہی کتابوں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا نبیوں نے آپ بنا لی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذات قوی اور قیوم جو اس عالم کے ظاہر وباطن کی مدبّر ہے اس کی عظمت اُن کے دل میں نہیں اور اس کو ایک مردہ یا سویا ہوا یا ناتواں اور غافل خیال کیا گیا ہے اور اس کی تمام قدرتی عمارت کے مسمار کرنے کی فکر میں ہیں معجزات سے بکلّی منکر اور فرقانی پیشگوئیوں سے انکاری ہیں اور اپنی نابینائی کی وجہ سے فرقان کریم کو ایک ادنیٰ سا معجزہ بھی نہیں سمجھتے حالانکہ وہ تمام معجزات سے برتر واعلیٰ ہے۔ بہشت اور دوزخ کی ایسی ضعیف طور پر تاویل کرتے ہیں کہ جس سے منکر ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔ حشر اجساد سے بکلّی انکاری ہیں۔عبادات اور صوم وصلٰوۃ پر ہنسی اور ٹھٹھاکرتے ہیں اور رُوبحق ہونے کی جگہ رُوبدُنیا ہونا اُنکے نزدیک بہتر ہے اور جو شخص روبحق ہووہ اُن کے نزدیک سادہ لوح اور ابلہ اور بیوقوف درویش ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیداہوگیا جس کا قدم دن بدن الحادؔ کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔