اب سمجھنا چاہیئے کہ گو اجمالی طور پر قرآن شریف اکمل واتم کتاب ہے مگرایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کامفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہی ہم نے لیا ہے اور اگر احادیث کوہم بکلّی ساقط الاعتبار سمجھ لیں تو پھر اس قدر بھی ثبوت دینا ہمیں مشکل ہوگا کہ درحقیقت حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما وعثمان ذوالنورینؓ اور جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہہٗ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؔ کرام اور امیرالمؤمنین تھے اور وجود رکھتے تھے صرف فرضی نام نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان میں سے کسی کانام نہیں۔ ہاں اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی کسی آیت سے صریح مخالف و مغائر پڑے مثلًا قرآ ن شریف کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیا اور حدیث یہ کہے کہ فوت نہیں ہوا تو ایسی حدیث مردود اور ناقا بل اعتبار ہوگی لیکن جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہوقبول کرنے کے لائق ہے۔ پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشگوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلّمات میں سے سمجھی گئی تھیں بمد موضوعات داخل کردیں۔یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنیکی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیاہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔انجیل بھی اس کی مصدّق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں درحقیقت اُن لوگوں کا کام ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ اُن لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اورقال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جوبات اُن کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہواس کو محالات اور ممتنعات میں داخلؔ کرلیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے مگر ہرایک قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں۔