شامل حال ہوئی۔ ایسا ہی نصرت الٰہی ایک دوسرے رنگ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شامل حال ہوگئی اور درحقیقت وہی نصرت ہے جو اپنے اپنے محل پر رنگا رنگ کے معجزات کے نام سےؔ موسوم ہوتی ہے۔ سو میں خوب جانتا ہوں کہ جیسا کہ نصرت الٰہی حضرت مسیح کے شامل حال ہوئی تھی میں بھی اس نصرت سے بے نصیب نہیں رہوں گا لیکن یہ ضرور نہیں کہ وہ نصرت جسمانی بیماروں کے اچھا کرنے سے ظاہر ہو بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک الہام میں میرے پر ظاہر فرمایا ہے کہ خلق اللہ کی روحانی بیماریوں اور شکوک اور شبہات کو وہ نصرت دُور کرے گی۔ جیساکہ میں پہلے اس سے لکھ چکا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ مستعد دلوں پر اثر پڑتا جاتا ہے اور پرانی بیماریاں دور ہوتی جاتی ہیں اور نصرت الٰہی اندر ہی اندر کام کر رہی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے خاص کلام سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھاجائے تو معلوم ہو گا کہ وہ روحانی بیماریوں کو بہت صاف کررہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔
حا ل کے نیچری جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحا ح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہیؔ غلط ہیں۔ شاید اُن کا ایسی باتو ں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس عاجز کے اس دعوے کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جاوے لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تواریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتاہے۔ جیسا کہ ہندوؤں کے بزرگوں رام چندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعہ سے ہی ہم نے قبول کیا ہے۔ گو تحقیق و تفتیش تاریخی واقعات میں ہندو لوگ بہت کچّے ہیں مگر باوجود اس قدر تواتر کے جو اُن کی مسلسل تحریروں سے پایاجاتاہے ہرگز یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن یہ فرضی ہی نام ہیں۔