اور بے سامانی کی حالت میں چھوڑ گئے۔ اے خداوند قادر مطلق تُواُن کا متکفل اور متولّی ہو۔ اور میرے محبین کے دلوں میں الہام ڈال کہ اپنے اس یک رنگ بھائی کے پس ماندوں کے لئے جو بے کس اور بے سامان رہ گئے کچھ ہمدردی کا حق بجالاویں۔
اے خدا اے چارہ سازِ ہر دل اندوہگیں
اے پناہ عاجزان آمرز گارِمُذنبین
از کرم آں بندخودرا بہ بخشش ہا نواز
ایں جُدا افتاد گاں را ازترحم ہا بہ بین
میں نے بطور نمونہ اس جگہ چند دوستوں کا ذکر کیا ہے اور اسی رنگ اور اسی شان کے میرے اور دوست بھی ہیں جن کا مفصّل ذکر انشاءاللہ ایک مستقل رسالہ میں کروں گا۔ اب مضمون طول ہوا جاتا ہے اسی پر بس کرتاہوں۔
اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلہ ¿ بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں اُن کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کرسکوں۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خداوند جو میرا متولّی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مُریدانہ محبت کی نُورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بَلعَم
کی طرح مکّاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجُزاس کے کسی کام کے نہیں کہ مُنہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دئیے جائیں وہ تھک گئے اور درماندہ ہوگئے۔ اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے اُنہیں دبا لیا۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دئیے جائیں گے بجُز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اُس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درختِ وجود کی سر سبز شاخیں ہیں اور میں انشاءاللہ کسی دوسرے وقت میں اُن کا تذکرہ لکھوں گا۔