محض ابتغائًً لمرضات اللّٰہ اس راہ میں دے چکے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُنہیں جزائے خیر بخشے۔ از آنجملہ میرے نہایت پیارے بھائی اپنی جدائی سے ہمارے دل پر داغ ڈالنے والے میرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم و مغفور رئیس سا مانہ علاقہ پٹیالہ کے ہیں جو دوسری ربیع الثانی ۸۰۳۱ھ میں اس جہانِ فانی سے انتقال کر گئے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔ اَلعَینُ تَدمَعُ وَ القَلبُ یَحزُنُ وَ اِنَّا بِفِرَاقِہ لَمَحزُونُونَ میرزاصاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض للہ محبّت رکھتے اور جس قدر مجھ میں فنا ہو رہے تھے مَیں کہاں سے ایسے الفاظ لاﺅں تا اُس عشقی مرتبہ کو بیان کر سکوں اور جس قدر اُن کی بے وقت مفارقت سے مجھے غم اور اندوہ پہنچا ہے میں اپنے گذشتہ زمانہ میں اُس کی نظیر بہت ہی کم دیکھتا ہوں۔ وہ ہمارے فرط اور ہمارے میرِ منزل ہیں جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے۔ جب تک ہم زندہ رہیں گے اُن کی مفارقت کا غم ہمیں کبھی نہیں بھولے گا ۔ دردیست دردلم کہ گر از پیش آب چشم بردارم آستین برود تا بدامنم اُن کی مفارقت کی یاد سے طبیعت میں اُداسی اور سینہ میں قلق کے غلبہ سے کچھ خلش اور دل میں غم اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ اُن کا تمام وجود محبت سے بھر گیا تھا۔ میرزا صاحب مرحوم محبّانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے۔ اُنہوں سے اپنی تمام زندگی اسی راہ میں وقف کررکھی تھی۔ مجھے امید نہیں کہ اُنہیں کوئی اَور خواب بھی آتی ہو۔ اگرچہ میرزا صاحب بہت قلیل البضاعت آدمی تھے مگر اُن کی نگاہ میں دینی خدمتوں کے محل پر جو ہمیشہ کرتے ر ہتے تھے خاک سے زیادہ مال بے قدر تھا۔اسرارِ معرفت کے سمجھنے کے لئے نہایت درجہ کا فہم سلیم رکھتے تھے محبت سے بھرا ہوا یقین جو اس عاجز کی نسبت وہ رکھتے تھے خدا تعالیٰ کے تصّرف تام کا ایک معجزہ تھا اُن کے دیکھنے سے طبیعت ایسی خوش ہوجاتی تھی جیسے ایک پھولوں اور پھلوں سے بھرے ہوئے باغ کو دیکھ کر طبیعت خوش ہو تی ہے۔ وہ بنظر ظاہر اپنے پس ماندوں او ر اپنے خورد سالہ بچہ کو نہایت ضعف اور ناداری