اس جگہ میں بعض اُن لوگوں کا وسوسہ بھی دُور کر نا چاہتا ہوں جو ذی مقدرت لوگ ہیں اور اپنے تئیں بڑا فیاض اور دین کی راہ میں فدا شدہ خیال کرتے ہیں لیکن اپنے مالوں کو محل پر خرچ کرنے سے بکلّی منحرف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم کسی صادق مویّد مِنَ اللہ کا زمانہ پاتے جو دین کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوتا تو ہم اُس کی نصرت کی راہ میں ایسے جھکتے کہ قربان ہی ہو جاتے۔ مگر کیا کریں ہر طرف فریب اور مکر کا بازار گرم ہے۔ مگر اے لوگو تم پر واضح رہے کہ دین کی تائید کے لئے ایک شخص بھیجا گیا لیکن تم نے اُسے شناخت نہیں کیا۔ وہ تمہارے درمیان ہے اور یہی ہے جو بول رہا ہے۔ پر تمہاری آنکھوں پر بھاری پردے ہیں۔اگر تمہارے دل سچائی کے طلب گار ہوں تو جو شخص خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُس کا آزمانا بہت سہل ہے۔ اُس کی خدمت میں آﺅ۔اس کی صُحبت میں دو تین ہفتے رہو تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اُن برکات کی بارشیں جو اُس پر ہو رہی ہیں اور وہ حقانی وحی کے انوار جو اُس پر اُتر رہے ہیں اُن میں سے تم بچشم خود دیکھ لو۔ جو ڈھونڈتا ہے وہی پاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اُسی کے لئے کھولا جاتا ہے۔ اگر تم آنکھیں بند کر کے اور اندھیری کوٹھری میں چھپ کر یہ کہو کہ آفتاب کہاں ہے تو یہ تمہاری عبث شکایت ہے۔ اے نادان اپنی کوٹھری کے کواڑ کھول اور اپنی آنکھوں پر سے پردہ اُٹھا تا تجھے آفتاب نہ صرف نظر آوے بلکہ اپنی روشنی سے تجھے منو ّربھی کرے۔
بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا یہی تائید دین کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیزکا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیوں کر اور کن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں۔سو اُنہیں جاننا چاہیئے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقات ِنفسانیہ سے چھوڑ اکر نجات کے سر چشمہ تک پہنچاتا ہے۔ سو اس یقین کامل کی راہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہر گز کھل نہیں سکتیں اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ کچھ فائدہ نہیں