شامل حال ہرگز نہ ہوتے۔ بعضؔ کہتے ہیں کہ اگر ہم قبول بھی کر لیں کہ مسیح ابن مریم رسو ل اللہ فوت ہوگیا ہے تو اس بات کا ثبوت کیاہے کہ تم ہی ہو جو اس کے قائم مقام بھیجے گئے ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہریک انسان اپنے کاموں سے شناخت کیاجاتاہے۔ ہرچند عوام کی نظر میں یہ دقیق اور غامض بات ہے لیکن زیرک لوگ اس کو خوب جانتے ہیں کہ ایسے مامور من اللہ کی صداقت کا اس سے بڑ ھ کر اَور کوئی ثبوت ممکن نہیں کہ جس خدمت کے لئے اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بجالانے کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ اگر وہ اس خدمت کو ایسی طرز پسندیدہ اور طریق برگزیدہ سے ادا کردیوے جو دوسرے اس کے شریک نہ ہو سکیں تو یقینًا سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچا تھا کیونکہ ہر یک چیز اپنی علّت غائی سے شناخت کی جاتی ہے۔ اور یہ خیال بالکل فضول ہے کہ جو مثیل مسیح کہلاتاہے وہ مسیح کی طرح مُردوں کو زندہ کر کے دکھلاوے یا بیماروں کو اچھا کر کے دکھلا وے کیونکہ مماثلت علّت غائی میں ہوتی ہے۔ درمیانی افعال کی مماثلت معتبر نہیں ہوتی۔ بائبل کی کتابوں کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ جو خوارق مسیح کیؔ طرف منسوب کئے گئے ہیں یعنی مردوں کا زندہ کرنا یا بیماروں کو اچھا کرنا یہ مسیح سے مخصوص نہیں ہے بلکہ بعض بنی اسرائیلی ایسے بھی گزرے ہیں کہ اِن سب کاموں میں نہ صرف مسیح ابن مریم کے برابر بلکہ اس سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے لیکن پھر بھی ان کو مثیل مسیح نہیں کہا جاتا نہ مسیح کو اُنکا مثیل ٹھہرایا جاتا ہے۔ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ قرار دئے گئے ہیں۔ قرآن کریم اس پر ناطق ہے لیکن کبھی کسی نے نہیں سُنا ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوٹے سے حضرت موسیٰ کی طرح سانپ بنایا ہو یا آسمان سے خون اور جوئیں اور مینڈکیں برسائی ہوں بلکہ اس جگہ بھی علّت غائی میں مشابہت مراد ہے چونکہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی رہائی دلانے کے لئے مامور کئے گئے تھے سو یہی خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوئی تا اس وقت کے فرعونوں سے زبردست ہاتھ کے ساتھ مومنوں کو رہائی دلاویں اور جیسا کہ نصرت الٰہی ایک خاص رنگ میں حضرت موسیٰ کے