رفع کے اس جگہ معنے موت ہی ہیں۔ پھر جبکہ مسیح کے رفع کے ساتھ توفّی کا لفظ بھی موجود ہے تو کیوں اور کس دلیل سے اس کی حیات کے لئے ایک شور قیامت برپا کر دیا ہے۔ افسو س کہ اس وقت کے مولوی جب دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم مسیح ابن مریم کو مار چکا ہے اور کوئی حدیث صحیح اس کے منافی ومغائر نہیں تو لاچار ہوکر اجماع کی طرف دوڑتے ہیں۔ ہر چند اِن لوگوں کوبار بار کہاجاتاہے کہ حضرات اجماع کا لفظ پیشگوئیوں کے متعلق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ قبل از ظہور ایک نبی کی اجتہادی تاویل میں بھی غلطی ممکن ہے۔ لیکن یہ لوگ نہیں مانتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اجماع کی بناء یقین اور انکشاف کلّی پر ہوا کرتی ہے لیکن سلف و خلف کے ہاتھ میں جن کی طرف اجماع کا دعویٰ منسوب کیا جاتاہے نہ یقین کلّی تھا نہ انکشاف تام۔ اگر ان کے خیالات کی بناء ایک کامل یقین پر ہوتی تو اُن سے اقوال متفرقہ صادر نہ ہوتے۔ اور تفسیر کی کتابوں میں زیر تفسیر آیت یٰعیسیؔ انّی متوفیک چھ چھ سات سات اقوال متضادہ نہ لکھے جاتے بلکہ ایک ہی شق مسلّم کو مانتے چلے آتے اور اگر انکشاف تام اُ ن کے نصیب ہوتا تو وہ بحوالہ قرآ ن کریم واحادیث صحیحہ ضرور لکھتے کہ آنے والا مسیح ابن مریم دراصل وہی مسیح ابن مریم رسول اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جو اسرائیلی نبی تھا۔ بلکہ انہوں نے اس مقام کی تصریح میں دم بھی نہیں مارا اور اصل حقیقت کو حوالہ بخدا کر کے گذر گئے جیسا کہ صلحاء کی سیرت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا جو خدا تعالیٰ نے وہ اصل حقیقت اپنے ایک بندہ پر کھول دی اور جو راز مخفی چلا آتا تھا اس پر ظاہر کردیا تاا س کے حق میں یہ خارق عادت تفہیم جس کے دریافت سے تمام علماء کی عقلیں قاصر رہیں ایک کرامت میں شمار کی جائے۔ وذٰلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔
سو اے بھائیو! برائے خدا جلدی مت کرو اور اپنے علم اور فراست پر داغ مت لگاؤ یقینًا سمجھوکہ گریز کی تمام راہیں بند ہیں اور انکار کے تمام طرق مسدود ہیں۔ اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتایا اگر کسی افترا پر اس کی بنیاد ہوتی تو یہ دلائل بیّنہ اس کے