آسمان پرایسا ہے کہ اُس میں خاکی جسم کے لوازم ہرگز نہیں پائے جاتے۔ وہ بڈھا نہیں ہوتاؔ اُس پر زمانہ اثر نہیں کرتا۔ وہ اناج اور پانی کا محتاج نہیں۔ سو آپ نے تو ایک طور سے مان بھی لیا کہ وہ اوررنگ اور شان کا جسم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ معراج کی رات میں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر نبیوں کو دیکھا تو کیا بالخصوص مسیح کو ہی جسم کے سمیت دیکھا اور دوسروں کی فقط روحیں دیکھیں بلکہ ظاہر ہے کہ سب کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ دیکھا اور سب کا جسمانی حلیہ بھی بیان کیا اور مسیح کا وہ حلیہ بیان کیا جو آنے والے مسیح سے بالکل مخالف تھا۔ پس کیا یہ قوی دلیل اس بات پر نہیں ہے کہ مسیح کو اس کے مرنے کے بعد اُسی رنگ اور طرز کا جسم ملا جو یحییٰ نبی اور ادریس اور یوسف اور حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کو ملا تھا۔ کیا کوئی نرالی بات مسیح میں دیکھی گئی جو اَوروں میں نہیں تھی۔ اب جبکہ ایسی وضاحت سے مسیح کا وفات پاجانا اور پھر دوسرے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی طرح زندہ ہو کر آسمان کی طرف اُٹھائے جانا ثابت ہوتا ہے تو کیوں ناحق مسیح کے سفلی اور کثیف جسم اورناپائدار حیات کے لئے ضد کی جاتی ہے اور سب کے لئے ایک موت اور اس کے لئے دو موتیں روا رکھی جاتی ہیں۔ قرآن شریف میں ادریس ؑ نبیؔ کے حق میں ہے وَ3 ۱؂ ۔ اور اس کے ساتھ توفّی کا کہیں لفظ نہیں تاہم علماء ادریس ؑ کی وفات کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس جہان سے ایسا اٹھایا گیا کہ پھر نہیں آئے گا یعنی مرگیا کیونکہ بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لئے رخصت نہیں ہوسکتا۔ وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے۔ 33 ۲؂۔ اور اگر انہیں کہا جائے کہ کیا ادریس آسمان پر مر گیا یا پھرآکر مرے گا یا آسمان پر ہی اس کی روح قبض کی جائے گی تو ادریس ؑ کے دوبارہ دنیا میں آنے سے صاف انکار کرتے ہیں۔اور چونکہ دخول جنت سے پہلے موت ایک لازمی امر ہے لہٰذا ادریس کا فوت ہوجانا مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ