کہ اگریہودی سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اُسی سوراخ میں داخل ہوگے۔ یعنی پورے پورے یہودی ہوجاؤ گے۔ اورچونکہ یہودیوں کی اس تباہ حالت میں خدائے تعالیٰ نے انہیں فراموش نہیں کیا تھا بلکہ اُن کے اخلاق واعمال درست کرنیکے لئے اور اُن کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی غرض سے مسیح ابن مریم کو انہیں میں سے بھیجا تھا لہٰذا اس اُمت کو بھی بشارت دی گئی کہ جب تمہاری حالت بھی اُن سخت دل یہودیوں کے موافق ہوجائے گی اورتم بھی ظاہر پرست اوربد چلن اور رُوبدُنیا ہوجاؤ گے اورتمہارے فقراء اورعلماء اور دنیاداروں میں اپنی اپنی طرز پر مکاری اور بدچلنی پھیل جائے گی اور وہ شے جس کا نام توحید اورخداپرستی اورخداترسی اور خداخواہی ہے بہت ہی کم رہ جائے گی تو مثالی طورپر تمہیں بھی ایک ابن مریم تم میں سے دیا جائے گا تا تمہاری اخلاقی اورعملی اورایمانی حالت کے درست کرنے کے لئے ایسا ہی زور لگا وے جیسا کہ مسیح ابن مریم نے لگایا تھا۔
اب صاف اور نہایت کُھلاکُھلاقرینہ ہے کہ چونکہ اس زمانہ کے مسلماؔ ن دراصل یہودی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنی سخت دلی اوردنیا پرستی کی وجہ سے یہودیوں سے ایک مشابہت پیداکرلی ہے اس لئے جو مسیح ابن مریم اُن کے لئے نازل ہوا وہ بھی دراصل مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ اپنے اس منصبی کام میں جو اس کے سپرد ہوا ہے مسیح سے مماثلت رکھتا ہے۔
یقیناًسمجھو کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فو ت ہو چکا اور خدا تعالیٰ نے اس کوفوت ہونے کے بعد اُسی قسم کی زندگی بخشی جووہ ہمیشہ نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کو بخشتا آیا ہے۔ سو وہ خدائے تعالیٰ کی طرف ایک پاک اور لطیف زندگی کے ساتھ جو جسم خاکی اور اُس کے لوازم کثیفہ اور مکدّرہ سے منزّہ ہے اُٹھایا گیا اور اسی قسم کے زندوں کی جماعت میں جاملا۔ اگر وہ جسم خاکی کے ساتھ اُٹھایا جاتا تو اس خاکی جسم کے لوازم بھی اُس کے ساتھ رہتے۔ کیونکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتاہے کہ ہم نے کوئی ایسا جسد خاکی نہیں بنایا کہ وہ زندہ تو ہو مگر روٹی نہ کھاتا ہو۔ لیکن آپ لوگ مانتے ہیں کہ اب مسیح ابن مریم کا جسم