نہیں ہوں گی۔دیکھو صفحہ نمبر ۱۰۷ مکتوبات امام ربّانی مطبوعہ احمدی دہلی۔ سو اب اے بھائیو! برائے خدا دھکہ اورزبردستی مت کرو ضرور تھا کہ میں ایسی باتیں پیش کرتا جن کے سمجھنے میں تمہیں غلطی لگی ہوئی تھی۔اگر تم پہلے ہی راہ صواب پرہوتے تو میرے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔میں کہہ چکا ہوں کہ میں اس اُمّت کی اصلاح کے لئے ابن مریم ہوکر آیا ہوں اور ایسا ہی آیاہوں کہ جیسے حضرت مسیح ابن مریم یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔ میں اسی وجہ سے تو اُن کا مثیل ہوں کہ مجھے وہی اوراُسی طرز کا کام سپُردہوا ہے جیسا کہ انہیں سپرد ہواتھا۔ مسیح نے ظہور فرما کر یہودیوں کو بہت سی غلطیوں اوربے بنیاد خیالات سے رہائی دی تھی۔ منجملہ اس کے ایک یہ بھی تھا کہ یہودی لوگ ایلیا نبی کےؔ دوبارہ دنیا میں آنے کی ایسی ہی اُمید باندھے بیٹھے تھے جیسے آج کل مسلمان مسیح ابن مریم رسول اللہ کے دوبارہ آنے کی امید باندھے بیٹھے ہیں۔ سو مسیح نے یہ کہہ کر کہ ایلیانبی اب آسمان سے اُتر نہیں سکتا زکریا کابیٹا یحییٰ ایلیا ہے جس نے قبول کرنا ہے کرے اس پُرانی غلطی کو دُور کیا اور یہودیوں کی زبان سے اپنے تئیں مُلحد اورکتابوں سے پھرا ہوا کہلایا مگرجوسچ تھا وہ ظاہر کردیا۔ یہی حال اُس کے مثیل کا بھی ہوا اور حضرت مسیح کی طرح اس کو بھی مُلحد کا خطاب دیاگیا۔ کیا یہ اعلیٰ درجہ کی مماثلت نہیں۔ اس باریک نکتہ کو یادرکھو کہ مسلمانوں کو یہ کیوں خوشخبری دی گئی کہ تم میں مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔دراصل اس میں بھید یہ ہے کہ ہمارے سیّد ومولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ اُمّت محمدیہ مثیل اُمّت بنی اسرائیل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں یہ اُمّت ایسی ہی بگڑجائیگی جیسے یہودی اپنے آخری وقت میں بگڑ گئے تھے اورحقیقی نیکی اور حقیقی سچائی اور حقیقی ایمانداری اُن میں سے اُٹھ گئی تھی اور نکمّے اور بے اصل جھگڑؔ ے اُن میں برپاہوگئے تھے اور ایمانی محبت ٹھنڈی ہوگئی تھی اورفرمایا کہ تم تمام وہی کام کروگے جویہودیوں نے کئے۔یہاں تک