انہیں کے اسم سے موسوم ہوں گے۔ اور یہ بات ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خاتم النبیّین کے بعدمسیح ابن مریم رسول کا آنا فساد عظیم کاموجب ہے اس سے یاتو یہ ماننا پڑے گا کہ وحی نبوت کا سلسلہ پھر جاری ہوجائے گا اور یا یہ قبول کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ مسیح ابن مریم کو لوازم نبوت سے الگ کر کے اورمحض ایک اُمّتی بنا کر بھیجے گا اور یہ دونوں صورتیں ممتنع ہیں۔ اس جگہ یہ بیان کرنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ جس حالت میں تقریبًا کل حدؔ یثیں قرآن شریف کے مطابق اور ہمارے بیان کی مؤید ہیں۔ پھراگر بطور شاذونادر کوئی ایسی حدیث بھی ہو جو اس مجموعہ یقینیہ کے مخالف ہو تو ہم ایسی حدیث کو یا تو نصوص میں سے خارج کریں گے اوریا اس کی تاویل کرنی پڑے گی۔کیونکہ یہ توممکن نہیں کہ ایک ضعیف اورشاذ حدیث سے وہ مستحکم عمارت گرا دی جائے جس کو نصوص بیّنہ فرقانیہ و حدیثیہ نے طیارکیا ہے بلکہ ایسی حدیث اُن کے معارض ہوکر خود ہی گرے گی یا قابل تاویل ٹھہرے گی۔ ہریک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ ایک خبر واحد غایت کارمفید ظن ہے۔ سو وہ یقینی اور قطعی ثبوت کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ بہت سی حدیثیں مسلم اور بخاری کی ہیں جو امام اعظم صاحب نے جو رئیس الائمہ ہیں قبول نہیں کیں۔بعض حدیثوں کو شافعی نے نہیں لیا۔ بعض حدیثوں کوجو نہایت صحیح سمجھی جاتی ہیں امام مالک نے چھوڑ دیا۔ بعض محدثین نے لکھا ہے کہ مسیح موعود جب دنیا میں آئے گا تواکثر استدلال اس کا قرآن شریف سے ہو گا اوربعض ایسی حدیثوں کو چھوڑ دے گا جن پر علماءِ وقت کا پختہ یقین ہوگا اور مجدّد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات کی مجلد ثانی مکتوب پنجاہ وپنجم میں لکھتے ہیںؔ کہ مسیح موعود جب دنیا میںآئے گاتو علماءِ وقت کے بمقابل اس کے آمادہ مخالفت کے ہوجائیں گے۔کیونکہ جو باتیں بذریعہ اپنے استنباط اور اجتہادکے وہ بیان کرے گا وہ اکثر دقیق اورغامض ہوں گی اوربوجہ دِقّت اورغموض ماخذ کے ان سب مولویوں کی نگاہ میں کتاب اورسُنت کے برخلاف نظرآئیں گی حالانکہ درحقیقت برخلاف